2025 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان 123 ممالک میں سے 106 نمبر پر تھا۔ یعنی پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہورہا ہے جہاں ایک کروڑ دس لاکھ  لوگ پیٹ بھر کھانا نہیں کھا سکتے۔

زرخیرز ترین مٹی والے ملک میں لوگ بھوکے پیٹ کیوں سونے پر مجبور ہیں؟

سب سے پہلے بات کرتے ہیں کھانے کے تیل کی ہے۔

پاکستان میں سرسوں ہے، تل ہے، مونگ پھلی ہے، کپاس کا بیج ہے — یعنی کھانے کا تیل بنانے کی مکمل صلاحیت ہے۔ لیکن ہم نے کبھی اس پر کام نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ 2025 میں پاکستان نے صرف پام آئل کی درآمد پر 3.4 ارب ڈالر خرچ کیے۔ یعنی آپ کے گھر کی کڑاہی میں جو تیل جاتا ہے وہ ڈالروں میں خریدا جاتا ہے۔

دوسری بڑی غلطی تحقیق نہ کرنے کی ہے

آج کے دور میں صرف زرخیز زمین کافی نہیں۔ بہتر بیج چاہیے، موسم کے مطابق فصل چاہیے، جدید مشینری چاہیے۔ ہم دہائیوں تک کوئی نیا بیج نہیں بنا سکے۔ آبادی بڑھتی رہی، فصل کی پیداوار وہیں رہی۔ 2025 میں گندم کی پیداوار 8.9 فیصد کم ہوئی۔ دالیں 15.4 فیصد نیچے گئیں۔ کپاس 30.7 فیصد گر گئی۔

تیسری سب سے بڑی غلطی موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ نہ لینے کی ہے۔

سیلاب، گرمی کی لہریں، پانی کی کمی — یہ اب استثناء نہیں، یہ معمول بن چکا ہے۔ لیکن ہماری پالیسی ہمیشہ تباہی کے بعد ہوش میں آتی ہے، پہلے سے تیاری نہیں کرتی۔

اور سب سے افسوسناک بات

پچھلے سال پاکستان میں آلوؤں کی ریکارڈ فصل ہوئی۔ لیکن افغانستان کی سرحد بند تھی، اسٹوریج نہیں تھی، کوئی متبادل منڈی نہیں تھی۔ کسانوں نے وہ فصل جانوروں کو کھلا دی یا زمین میں دبا دی۔

ایک طرف کروڑوں لوگ بھوکے — دوسری طرف فصل تباہ۔

پاکستان کے پاس زمین ہے، پانی ہے، محنتی کسان ہے۔ لیکن فوڈ سیکیورٹی صرف زمین سے نہیں آتی — اس کے لیے منصوبہ بندی چاہیے، سائنس چاہیے، پالیسی چاہیے۔

ورنہ زرعی ملک ہونا صرف ایک جملہ رہ جائے گا — کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔

آپ بتائیں — اگر پاکستان کے پاس اتنی زرخیز زمین ہے تو قصور کس کا ہے؟ کسان کا، حکومت کا، یا ہم سب کا؟