اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے آغاز میں ملک کی معیشت عمومی طور پر مستحکم رہی اور مالیاتی نظم و ضبط پر مبنی پالیسیوں نے کاروباری طبقے اور گھریلو صارفین کے اعتماد کو سہارا دیا۔ تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ حالیہ سیلابی نقصانات زرعی شعبے، بنیادی ڈھانچے اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے نمایاں خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیلاب سے زرعی اجناس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں درآمدات میں اضافہ جبکہ برآمدات میں سست روی کا امکان ہے۔ عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی بیرونی کھاتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ محتاط مالیاتی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت اصلاحات کے تسلسل سے معاشی اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ اپریل سے اگست 2025 کے دوران تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے جو مثبت پیش رفت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور سیلاب کے بعد تعمیر نو کی سرگرمیاں تعمیراتی شعبے کو سہارا دیں گی۔ تاہم حقیقی جی ڈی پی میں نمو مالی سال 2025-26 کے لیے 3.25 سے 4.25 فیصد کی حد کے نچلے حصے کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے لیکن مالیاتی نظم و ضبط، توانائی شعبے میں اصلاحات اور ہدفی سبسڈی کے تسلسل سے اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی۔

آمدنی کے محاذ پر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ٹیکس اصلاحات، معاشی دستاویزات میں اضافے کی کوششیں اور بینک کے منافع کی منتقلی محصولات کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔ ان عوامل کو دیکھتے ہوئے مالی خسارہ مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کے 3.8 سے 4.8 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں توسیع اور زرعی اجناس کی کمی کے باعث درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ عالمی طلب میں کمی اور زرعی پیداوار میں نقصان کی وجہ سے برآمدات پر دباؤ برقرار رہنے کی توقع ہے۔ تاہم امریکی منڈی میں پاکستانی برآمدات پر ٹیرف میں کمی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر تجارتی خسارے کے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے جلد خراب ہونے والی خوراک کی اشیا کی قلت خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ جولائی 2025 میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور بجلی کے نرخوں میں دی گئی سہولت کے خاتمے سے توانائی کے شعبے میں قیمتوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔ تاہم اندرونی طلب میں اعتدال، عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں میں استحکام اور بیرونی کھاتوں میں توازن سے مجموعی مہنگائی کے اثرات کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔

اسٹیٹ بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی مالی سال 2025-26 کی دوسری ششماہی میں 5 سے 7 فیصد کے درمیانی ہدفی دائرے کی بالائی حد کو عبور کر سکتی ہے تاہم مالی سال 2026-27 میں مہنگائی دوبارہ ہدفی سطح پر آنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے آخر میں اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ معیشت کے لیے سب سے بڑے خطرات سیلاب کے اثرات، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی تجارت میں سست روی سے منسلک ہیں۔ ان خطرات پر قابو پانے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔