انہوں نے کہا کہ ریل اسٹیٹ سیکٹر نے ایک وقت میں میڈیا ہاؤسز کا کردار ادا کیا، جب اخبارات اور میڈیا ادارے خود کو کمزور محسوس کر رہے تھ، وضاحت کی کہ اگرچہ اس خلا کو پر کیا گیا، لیکن اب بھی وقت موجود ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر نظام کو بہتر بنائیں تاکہ صحافت اور میڈیا کے معیار کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صحافتی آزادی اور جمہوری اداروں کے فعال کردار کے لیے قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اختیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے،ملک میں اختلافِ رائے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے، اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرتی مسائل اور عوامی مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے سیاسی تجربات کا بھی ذکر کیا، بتایا کہ کس طرح انہوں نے سٹوڈنٹ سیاست سے شروعات کی، عملی سیاست کا تجربہ حاصل کیا، اور پھر بیوروکریسی میں خدمات انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ ان تجربات نے انہیں یہ سکھایا کہ شفاف اور منظم طریقہ کار کے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔

مزید پڑھیں: کسان کا مسئلہ جاگیردار کو ایوانوں میں بھیج کر حل نہیں ہو گا، اقرارالحسن

انہوں  نے زور دیا کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانی ہوگی، کیونکہ عوامی فیصلوں، میڈیا کی تنقید اور سیاسی اختلافات کے بغیر جمہوریت مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ تیسری قوت—یعنی میڈیا اور سول سوسائٹی—نے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے اور مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ قوت اب بھی ملک کے اندر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اداروں میں شفافیت، نظم و ضبط، اور عوامی مسائل پر توجہ دینا لازمی ہے، تاکہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور عوام کا اعتماد حکومتی اداروں پر قائم رہے۔ عطا اللہ تارڑ نے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون سے صحافت اور جمہوری عمل کو مضبوط کریں تاکہ ملک میں شفاف اور فعال نظام قائم ہو۔