ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق، فیلڈ مارشل نے صدرِ مملکت کو ملک کی مجموعی داخلی اور خارجی سلامتی کی صورتحال پر بریفنگ دی اور انہیں افغان سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغان طالبان کے اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تازہ صورتحال اور اس کے جواب میں پاک فوج کی کارروائیوں کے بارے میں صدر زرداری کو تفصیلی آگاہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فوج نے افغان حملوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
صدر آصف علی زرداری نے مسلح افواج کی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قوم کے دفاع میں ان کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ صدرِ مملکت نے افغان سرحد پر ہونے والے حملوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں پسپا کرنے پر افواجِ پاکستان کی کارکردگی کو سراہا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدرِ مملکت کو یقین دلایا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جب کہ صدر زرداری نے کہا کہ قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
PRESIDENT’S SECRETARIAT
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) October 15, 2025
(Media Wing)
Press Release
President and Field Marshal Discuss Internal and External Security Situation
ISLAMABAD, October 15, 2025: Chief of Army Staff, Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ called on President Asif Ali Zardari at Aiwan-e-Sadr… pic.twitter.com/4FwTALvQrU
آئی ایس پی آر کے مطابق، پندرہ اکتوبر کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں چار مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں پندرہ سے بیس افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق، اسپن بولدک کا واقعہ کوئی انفرادی یا غیر معمولی حملہ نہیں تھا۔ چودہ اور پندرہ اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی، تاہم پاکستانی فورسز نے بہادری سے دشمن کو پسپا کر دیا۔ جوابی کارروائی میں دشمن کی آٹھ چوکیوں اور چھ ٹینک تباہ ہوئے جب کہ پچیس سے تیس عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
واضح رہے کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب کابل نے اسلام آباد پر الزام عائد کیا کہ پاکستانی افواج نے افغان دارالحکومت پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے بعد عبوری افغان حکومت نے سرحدی علاقوں کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند میں بلااشتعال فائرنگ کی۔
دوسری جانب پاکستان نے افغان دارالحکومت پر حملے کی تردید کرتے ہوئے کابل پر زور دیا کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔







