دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، سعودی ویژن 2030 اور پاکستان کے اقتصادی ترقیاتی ایجنڈے کے مطابق ترجیحی شعبوں میں تعاون پر غور کیا جائے گا۔

سعودی وفد کی بدھ کو اسلام آباد میں دو اہم ملاقاتیں طے ہیں، جب کہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران وفد سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) سے بھی ملاقات کرے گا۔

ان ملاقاتوں میں توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، مالیاتی خدمات، تعمیرات، سیمی کنڈکٹرز اور خوراک کی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی جائے گی۔

گزشتہ برس اکتوبر میں بھی 135 رکنی سعودی کاروباری وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران البیک سمیت مختلف منصوبوں پر مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ یہ دورہ 17 ستمبر کو طے پانے والے پاکستان۔سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے بعد ہو رہا ہے، لیکن سرکاری ذرائع کے مطابق وفد کا ایجنڈا خالصتاً اقتصادی نوعیت کا ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم پاکستان نے دورے سے قبل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

دوسری جانب سعودی شوریٰ کا وفد بھی پیر کو اسلام آباد پہنچا ہے۔ عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ ماہ 17 ستمبر کو تاریخی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔ یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران طے پایا تھا.