پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کی کوششیں عروج پر پہنچ گئیں۔ قطر میں آج دوحہ میں اہم مذاکرات کا انعقاد ہو گا۔ طالبان کے وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد کی قیادت میں امارت اسلامیہ افغانستان کا وفد شریک ہو گا۔ پاکستانی طرف سے سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ پاکستان کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کا مقصد حالیہ سرحدی کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔ پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کا مقام اور وقت خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل طلوع نیوز نے بھی دوحہ میں مذاکرات کی اطلاع دی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا کہ قطر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ قطر سنجیدگی سے مسئلہ حل کرنے کے لیے فریقین سے بات کرنے کو تیار ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر عبدالعزیز الخلیفی کی جانب سے علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے پیغام موصول ہوا ہے۔ اسحاق ڈار نے قطر کی حمایت اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے کردار کو سراہا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ آج شام چھ بجے ختم ہو رہا ہے۔ جھڑپوں کا پس منظر یہ ہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے بلااشتعال پاکستان پر فائرنگ کی تھی۔ اس کے جواب میں پاک فضائیہ نے حملے کیے۔ طالبان کی سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں لڑائی میں مصروف رہیں۔ مختلف افغان علاقوں کے طالبان حکام نے جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔ اسلام آباد نے کابل سے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔ پاکستان فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی ہلاک ہو گئے اور عسکری گروہ پسپا ہو گئے۔