لاہور میں ملتان چونگی پر خواتین کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگی حالات کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی کی گئیں، تاہم جنگ ختم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 74 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، لیکن ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے زیادہ نہیں، اس کے باوجود حکومت عوام کو اس کمی کا فائدہ منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا، جبکہ پٹرولیم لیوی کے باعث صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام پر "پٹرول کے بم" گرائے جا رہے ہیں، دوسری طرف حکمران 11 ارب روپے کا جہاز خرید رہے ہیں۔ حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کرے اور پٹرولیم لیوی سمیت عوام پر عائد اضافی بوجھ واپس لے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائی جائے گی۔

مزید کہا کہ کل ملک بھر کے 510 مقامات پر پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے گا اور عوامی طاقت سے حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران شاہراہِ ریشم سے دیر تک مختلف اہم شاہراہیں بند کی جائیں گی، جبکہ گوجرانوالہ، گجرات اور دیگر شہروں میں جی ٹی روڈ پر بھی احتجاج ہوگا۔ ان کے مطابق سندھ سمیت ملک کے تمام صوبوں میں عوام احتجاج میں شریک ہوں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے، ورنہ یہ تحریک حکومت کے گھیراؤ کی تحریک میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام کی آواز دبانے سے گریز کریں۔ مہنگائی کے باعث خواتین کو گھروں کا کچن چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بعض اپنے زیورات فروخت کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

مزید یہ کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ، بیوروکریٹس، جرنیلز اور مراعات یافتہ افسران عام شہریوں کی مشکلات کا احساس نہیں کر سکتے۔ حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں اب تک تقریباً 8 ہزار ارب روپے وصول کر چکی ہے، مگر آئل ریفائنریز کی بہتری پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا، جبکہ حکمران طبقے کے پاس قوم کی لوٹی ہوئی دولت موجود ہے۔

واضع رہے کہ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں کے ظالمانہ اقدامات کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔حکومت پر زور دیا کہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا جائے، کیونکہ عوام اب مزید مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور معاشی بوجھ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔