اسپیکر قومی اسمبلی نے ہفتے کے روز نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) لاہور کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ میں ججز کے کردار یا ریاستی اداروں کے خلاف بات کرے گا تو اسے بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ہآئین میں واضح طور پر ان معاملات کی حدود متعین ہیں اور بطور اسپیکر ان حدود کی پاسداری کرانا ان کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چاہے محمود خان اچکزئی ہوں یا کوئی اور، تمام افراد ان کے لیے قومی اسمبلی کے منتخب اراکین ہیں، تاہم جو بھی پاکستان یا ریاستی اداروں کے خلاف بات کرے گا، اسے وہ ایوان میں روکیں گے،آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ قومی اداروں کو نشانہ بنایا جائے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین یا قواعد میں یہ کہیں درج نہیں کہ قائد حزب اختلاف جب بھی کھڑے ہوں تو انہیں لازمی طور پر بولنے کا موقع دیا جائے،اگر اپوزیشن کی بات آئینی اور قواعد کے مطابق ہوگی تو روایت کے تحت انہیں موقع دیا جاتا رہے گا، تاہم ایوان کے نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ حکومت کا مؤثر محاسبہ کرے، پارلیمانی کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کرے اور ایوان کے اندر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے،پارلیمنٹ کا اصل کام قانون سازی اور عوامی مسائل پر بحث ہے، نہ کہ غیر ضروری ہنگامہ آرائی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے تعلقات کے حوالے سے سوال پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے مشاورت ضرور کرتے ہیں، تاہم وزیراعظم نے کبھی انہیں کسی معاملے میں کام کرنے سے نہیں روکا،مشاورت جتنی زیادہ ہوگی، فیصلے اتنے ہی بہتر ہوں گے۔
قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکیشن میں تاخیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ تاخیر اس وجہ سے ہوئی کیونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔ جیسے ہی کیس واپس لیا گیا، قائد حزب اختلاف کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے ملکی خارجہ پالیسی پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آج اپنی تاریخ کے مضبوط ترین مرحلے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہیں اور چین، روس اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کے ساتھ بھی دوستانہ روابط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بتائیں کہ ایسا کون سا ملک ہے جس سے پاکستان کے تعلقات خراب ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 16 جنوری کو پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی بطور قائد حزب اختلاف تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ یہ عہدہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کے 9 مئی کے مقدمات میں نااہل ہونے کے بعد خالی ہوا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 6 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 مئی کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریک انصاف کے 9 اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر تبدیلی عمل میں آئی۔






