دونوں ممالک اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز کے فعال رکن ہیں، جہاں پاکستان خودمختاری کے احترام، مکالمے اور کثیرالجہتی اصولوں کی بنیاد پر میانمار کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدرِ مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمہوریہ میانمار کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر میانمار کے قائم مقام صدر من آنگ ہلینگ کے نام تہنیتی پیغام میں کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے حکومتِ پاکستان، عوام اور اپنی جانب سے قائم مقام صدر، میانمار کی حکومت اور عوام کو یومِ آزادی پر دلی مبارکباد پیش کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور میانمار کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جو میانمار کی آزادی کے ابتدائی برسوں سے باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر قائم ہے۔ تاریخی و ثقافتی روابط اور دونوں اقوام کے درمیان خیرسگالی کی روایت نے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل بہتری آئی ہے اور تجارت، دفاع، صحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ صدرِ مملکت نے اس یقین کا اظہار کیا کہ عملی اقدامات اور مضبوط ادارہ جاتی روابط کے ذریعے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کو مزید فروغ دیا جا سکے گا۔
آصف علی زرداری نے وسیع تر علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میں میانمار کا کردار علاقائی استحکام اور اقتصادی یکجہتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان، آسیان کے سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر، آسیان اور اس کے رکن ممالک بشمول میانمار کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ رابطہ، ترقی اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
صدر مملکت نے اس موقع پر میانمار کے ساتھ دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون کی حوصلہ افزائی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی شمولیت دیرینہ خیرسگالی کو عوام کے لیے ٹھوس ثمرات میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے قائم مقام صدر من آنگ ہلینگ کے لیے اچھی صحت اور ان کی ذمہ داریوں میں کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا اور میانمار کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔






