اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی حکومت کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر مزید حکومتیں مسلط کرنے کے بجائے نئے انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان اور حکومتی اتحادی کی جانب سے وزیراعظم کو دھاندلی زدہ قرار دیے جانے کے بعد وزیراعظم کو فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے تھا، تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہر جمہوری نظام میں ایسی صورتحال پیدا ہونے پر وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیتا ہے، لیکن موجودہ حکومت ایسا نہ کر سکی، جس سے اس کا آئینی، قانونی اور جمہوری جواز ختم ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے کا ایک آئینی طریقہ کار موجود ہے، جس کے لیے مطلوبہ تعداد پوری کرنے کی غرض سے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کو بھی دھاندلی زدہ حکومت کا حصہ سمجھتے ہیں اور موجودہ سیاسی صورتحال قومی مفاد کے مطابق نہیں ہے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک عوامی مطالبہ ضرور ہے، تاہم موجودہ اسمبلی کے پاس اس پر پیش رفت کا اخلاقی اختیار نہیں۔ ان کے مطابق ایسے اہم قومی معاملات پر وسیع اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے، تاہم یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ملک کو اس صورتحال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔