عینی شاہدین کے مطابق کم از کم 10 سے 12 افراد کے موبائل فون غائب ہوئے، جن میں میڈیا ورکرز، یوٹیوبرز اور عام شہری شامل ہیں۔ بعض متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ معمول کے مطابق کوریج کے لیے آئے تھے لیکن آج ماحول مختلف تھا
شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ سہیل آفریدی کے ہمراہ آئے کچھ افراد موقع پر مشکوک انداز میں گھومتے رہے، اور چوری کی وارداتیں انہی کے دوران ہوئیں۔ کہ “پی ٹی آئی کے کارکنوں میں چور شامل ہونا جماعت کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔”
ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد نے پولیس اور انتظامیہ کو شکایات درج کرا دی ہیں، تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
یہ واقعہ پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے بھی ایک شرمندگی کا سبب بن گیا ہے کہ ان کے رہنماؤں کی آمد کے دوران ہی ایسے واقعات پیش آئیں۔







