ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتِ حال، بالخصوص سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان پیدا ہونے والے تناؤ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری لفظی محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لیے مذاکراتی فضا قائم کی جا رہی ہے،جب کہ رواں ہفتے وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بھی ایک اہم ملاقات کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا، جس میں سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو کے بعد صدر نے محسن نقوی کو فوری طور پر کراچی طلب کر لیا تھا۔
یاد رہے کہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ پنجاب حکومت، پیپلز پارٹی کو ہدف بنا کر دراصل وزیراعظم کو نشانہ بنا رہی ہے، اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو رہی ہے۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ "آپ اتنے سادہ ہیں کہ سمجھ نہیں رہے پنجاب حکومت آپ کو وفاق کے خلاف سازش کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "کیا وزیراعظم نے آپ سے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین پر سیاست کریں؟"
25 ستمبر کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کو انا کا مسئلہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وفاقی حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور سیلاب زدگان کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے امداد فراہم کی جائے۔
سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا تھا کہ سیلاب کے بعد وفاق کو عالمی برادری سے مدد مانگنی چاہیے تھی۔ "اگر آپ آج 100 روپے خرچ کر رہے ہیں تو عالمی امداد سے 200 روپے خرچ کیے جا سکتے تھے، جس سے دگنے متاثرین کی مدد ممکن ہوتی۔"
اس کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا تھا کہ "مجھے عوام کی خدمت کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہر مسئلے کا حل صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہے، اور بھیک مانگنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔"
انہوں نے مزید کہا، "اگر آپ سندھ میں کچھ کام کرتے ہیں تو مجھے خوشی ہوتی ہے، لیکن کچھ کریں تو سہی۔ پنجاب میں میٹرو، اورنج لائن، موٹرویز اور سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ اس پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟"
سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 30 ستمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران، اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت، پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا، "ہمیں وزارتیں یا عہدے نہیں چاہییں، لیکن کم از کم عزت تو دی جائے۔ اگر یہی حالات رہے تو ہمیں حکومتی بنچز پر بیٹھنے میں دقت ہوگی، اور ہم اپوزیشن میں جا سکتے ہیں۔






