وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جمعہ کو ہونے والی اس ملاقات میں دونوں فریقین نے پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور مستقبل میں ہر سطح پر بہتر کوآرڈینیشن کے ذریعے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ بیرون ملک جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی جدید سافٹ ویئر اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی،فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA)، فیڈرل کانسٹیبلری، اور نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کے لیے تربیتی پروگرامز جاری رہیں گے تاکہ انسداد جرائم کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
امریکی تعاون سے FIA میں سنٹر فار ٹرانسفارمیشن کرائم اور اکیڈمی کے قیام کے منصوبے بھی تیزی سے آگے بڑھائے جائیں گے، جس سے کرائم رپورٹنگ، تحقیقات اور جرائم کی روک تھام میں معیار بلند ہوگا۔
ملاقات میں بارڈر سیکیورٹی اور کوسٹل گارڈز کے لیے جدید امریکی آلات کی فراہمی پر بھی بات ہوئی، جس سے ان کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ محسن نقوی نے بتایا کہ وفاقی سطح پر پہلا اینٹی ٹیررسٹ ونگ قائم کیا جائے گا جو صوبائی اداروں کے ساتھ مؤثر کوآرڈینیشن کرے گا۔
امریکی وفد نے پاکستان کی سیکیورٹی کوششوں کی تعریف کی اور اعلان کیا کہ وہ دوطرفہ اشتراک بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے نہ صرف پاکستان میں انسداد منشیات اور دہشت گردی کی روک تھام میں بہتری آئے گی بلکہ بین الاقوامی سکیورٹی نیٹ ورک میں پاکستان کا کردار بھی مضبوط ہوگا۔






