ترجمان نے یاد دلایا کہ 5 جنوری کو منایا جانے والا ’ایشیئن ڈے فار دی پیپل آف جموں و کشمیر‘ اس حقیقت کی علامت ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 5 جنوری 1949 کو جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے قرارداد منظور کی تھی۔ پاکستان کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بنیادی حقوق کی پامالی اور وقار سے محرومی کے ذریعے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دباتا رہا ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ کشمیری قیادت کو خاموش کرانے، میڈیا پر قدغن، غیر قانونی حراستوں اور چھاپہ مہمات کا سلسلہ معمول بن چکا ہے۔
ہزاروں کشمیری رہنما اور سول سوسائٹی کے اراکین قید میں ہیں، جبکہ صحافی عرفان مہاراج بھی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کی غیر قانونی قبضہ پالیسی اور آبادیاتی تبدیلی کے اقدامات کشمیری عوام کو ان کے اپنے وطن میں محروم اور کمزور کمیونٹی میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور خودارادیت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا رہے گا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ کشمیری عوام کو ان کا حق مل سکے۔
بریفنگ میں پاک چین تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق 4 جنوری 2026 کو جاری مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین نے سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی و عوامی تبادلوں سمیت تمام شعبوں میں تعلقات مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔







