کراچی کے علاقے گلشن معمار کے افغان کیمپ میں تجاوزات کے خلاف بلدیاتی آپریشن کے دوران شدید ہنگامہ آرائی کے بعد کارروائی روک دی گئی۔ مشتعل ہجوم نے پولیس پارٹی اور موقع پر موجود ہیوی مشینری پر شدید پتھراؤ کیا۔ اس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔

پولیس حکام کے مطابق مشتعل افراد نے گھروں کو مسمار کرنے سے روک دیا جس کے باعث بلدیاتی عملہ کارروائی مکمل نہ کر سکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد افغان بستی کے مستقل رہائشی نہیں تھے بلکہ خالی گھروں پر قبضہ کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حالات تاحال کشیدہ ہیں تاہم کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ انتظامیہ نے آپریشن کو آئندہ حکمت عملی طے ہونے تک مؤخر کر دیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کُرم کے سرحدی علاقے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کیا گیا۔ فائرنگ کے جواب میں پاک فوج نے مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی فائرنگ سے طالبان کی متعدد پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا، جب کہ ایک ٹینک بھی تباہ ہوگیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران طالبان کی چیک پوسٹوں پر آگ بھڑک اٹھی اور متعدد ٹھکانے متاثر ہوئے۔

مزید پڑھیں: افغان قیادت پاکستان سے معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کی خواہشمند ہے، مولانا فضل الرحمان

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف سے افغان طالبان اور خوارج نے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا، پاکستانی فورسزکی بھر پور جوابی کارروائی سے متعددافغان فوجی ہلاک ہوگئے، بھاری نقصانات کے باعث متعدد افغان پوسٹیں چھوڑ کر فرارہوگئے۔


پاک فوج کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کے جواب میں 200 سے زائد طالبان اور ان سے وابستہ دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔