وزیراعلیٰ سندھ نے جائے حادثہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح آگ میں پھنسے افراد کی جان بچانا تھی اور ریسکیو اداروں نے بھرپور کوشش کی، جو افراد تاحال لاپتا ہیں، انہیں جلد از جلد تلاش کرنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے عمارتوں کی منظوری کے نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی منزلہ عمارتوں کو بغیر کسی مناسب اسٹڈی اور حفاظتی جائزے کے اجازت دے دی جاتی ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک عمل ہے، جب بلڈرز سے فائر آڈٹ کرانے کی بات کی جاتی ہے تو وہ اسے ناانصافی قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: میئر کراچی کی 23 گھنٹے بعد گل پلازہ آمد، شہریوں کا احتجاج اور نعرے بازی
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں جن تاجروں کا نقصان ہوا ہے، حکومت ان کی مدد کرے گی اور معاوضے کے طریقہ کار کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، ان کے دکھ کا کوئی مداوا ممکن نہیں۔
انہوں نے واقعے پر سیاست کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات پر سیاست کرنا انتہائی افسوسناک ہ،واضح کیا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلا فائر ٹینڈر بروقت موقع پر پہنچا، تاہم اگر تحقیقات میں کسی بھی ادارے یا فرد کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے عمارتوں کے قوانین، فائر سیفٹی نظام اور آڈٹ کے عمل کو مزید سخت بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔






