ایک طرف 2010 میں چلی میں 33 کان کن تقریباً 700 میٹر زمین کے نیچے 69 روز تک پھنسے رہنے کے باوجود زندہ بچا لیے گئے، جب کہ دوسری طرف بلوچستان میں اکثر ایسے حادثات چند گھنٹوں میں اجتماعی اموات پر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ صرف حادثہ نہیں بلکہ حفاظتی نظام، ٹیکنالوجی اور ریسکیو صلاحیت ہے۔
بلوچستان میں حادثات کیوں ہوتے ہیں؟
عام تاثر یہ ہے کہ کوئلے کی کانیں اچانک بیٹھ جاتی ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے زیادہ تر حادثات کی بڑی وجہ میتھین گیس ہوتی ہے، جو کوئلے کی تہوں سے مسلسل خارج ہوتی رہتی ہے۔
یہ گیس نہ نظر آتی ہے، نہ اس کی کوئی بو ہوتی ہے، لیکن اگر بند جگہ میں جمع ہو جائے تو معمولی سی چنگاری بھی شدید دھماکے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کان کا بڑا حصہ منہدم ہو جاتا ہے۔
دنیا اس خطرے سے کیسے نمٹتی ہے؟
جدید کان کنی کرنے والے ممالک میں میتھین گیس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ کانوں میں نصب ڈیجیٹل گیس سینسرز خطرناک حد تک گیس جمع ہونے سے پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں، جبکہ طاقتور وینٹیلیشن سسٹم گیس کو باہر نکالتے رہتے ہیں تاکہ دھماکے کا خطرہ پیدا ہی نہ ہو۔
اس کے برعکس بلوچستان کی متعدد کانوں میں نہ مؤثر وینٹیلیشن موجود ہے، نہ جدید گیس ڈیٹیکٹرز نصب ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر مکمل عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
بعض کانوں میں تو آج بھی زیر زمین کام کرنے والے مزدوروں سے رابطے کے لیے گھنٹی اور تار جیسے پرانے نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔
اصل فرق کہاں ہے؟
ماہرین کے مطابق حادثہ کسی بھی ملک میں پیش آ سکتا ہے، لیکن اصل فرق ریسکیو آپریشن میں ہوتا ہے۔2010 میں چلی کے علاقے سان ہوزے کی کان میں 33 مزدور تقریباً 700 میٹر نیچے پھنس گئے تھے۔ حادثے کے بعد حکومت نے قومی سطح پر ہنگامی کارروائی شروع کی، دنیا بھر سے انجینئرز اور ماہرین کو بلایا گیا اور جدید ڈرلنگ مشینوں کی مدد سے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔
حادثے کے 17ویں روز ایک باریک سوراخ کے ذریعے معلوم ہوا کہ تمام کان کن زندہ ہیں۔ اسی راستے سے انہیں خوراک، پانی، ادویات اور ضروری سامان پہنچایا جاتا رہا۔ تقریباً 69 دن بعد خصوصی ڈرلنگ مکمل ہونے پر ایک مخصوص ریسکیو کیپسول کے ذریعے تمام 33 مزدوروں کو ایک ایک کرکے بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
بلوچستان میں ریسکیو کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
بلوچستان میں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں اکثر محدود وسائل، جدید مشینری کی کمی اور مشکل جغرافیے کا سامنا کرتی ہیں۔
جدید ڈرلنگ آلات، خصوصی ریسکیو ٹیکنالوجی اور زیر زمین نگرانی کے نظام محدود ہونے کے باعث ہر گزرتا گھنٹہ زندہ بچ جانے کی امید کم کرتا جاتا ہے۔
ایک گاؤں کے 28 جنازے
سورینج کے حالیہ سانحے کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ جاں بحق ہونے والے 34 کان کنوں میں سے 28 کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے گاؤں پیر آباد سے تھا۔
اس ایک حادثے نے ایک ہی گاؤں کے درجنوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا، جو پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی معاشی مجبوری اور حفاظتی مسائل دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔
At Least 34 Dead After Coal Mine Explosion in Pakistan pic.twitter.com/uuS0iVTAI8
— Firstpost (@firstpost) July 31, 2026
کیا یہ حادثات روکے جا سکتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں ہر حادثہ ناگزیر نہیں ہوتا۔ جدید حفاظتی قوانین، مؤثر نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، باقاعدہ معائنہ، گیس مانیٹرنگ سسٹمز، بہتر وینٹیلیشن اور تیز رفتار ریسکیو صلاحیت کے ذریعے ایسے سانحات کے خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
چلی کی مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ بروقت حکومتی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی اور مربوط ریسکیو نظام انتہائی مشکل حالات میں بھی انسانی جانیں بچا سکتے ہیں۔
بلوچستان کے حالیہ سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے لیے موجود نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، یا پھر ہر بڑے حادثے کے بعد صرف اموات کی تعداد گننے کا سلسلہ ہی جاری رہے گا۔







