پولیس رپورٹ کے مطابق بسنت کے دوران گزشتہ 10 سال کے ڈیٹا کی بنیاد پر ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور شہر کو لال، پیلے اور ہرے زونز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ حساس اور خطرناک علاقوں میں اضافی سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ پر مکمل عملدرآمد ہوگا اور صرف کاٹن ڈور اور رجسٹرڈ پتنگوں کی اجازت دی جائے گی۔ شیشہ، کیمیکل اور میٹل ڈور کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ ہر پتنگ اور ڈور کی QR کوڈ رجسٹریشن لازمی ہوگی تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی اور روک تھام کی جا سکے۔
پولیس کے مطابق بسنت کے دوران ڈرونز، جدید کنٹرول رومز اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے پتنگ بازی پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔ چھتوں پر غیر قانونی شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور دیگر خطرناک سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
موٹر سائیکل سوار شہریوں کے لیے ہیلمٹ اور سیفٹی وائرز کا استعمال لازمی ہوگا، جبکہ ریڈ زون میں اینٹینا کے بغیر داخلے پر پابندی ہوگی۔ بسنت کے دنوں میں شہریوں کی سہولت کے لیے 5 ہزار رکشے مفت فراہم کیے جائیں گے اور ریسکیو، ہیلتھ اور ٹریفک پولیس کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔
یہ رپورٹ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر جمع کرائی گئی ہے، جہاں ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے پتنگ بازی سے متعلق قانون اور بسنت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں پولیس نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بسنت کے دوران مکمل نظم و ضبط، عوامی تحفظ اور غیر قانونی سرگرمیوں پر سخت کنٹرول کو یقینی بنایا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پلان سے نہ صرف شہریوں کی حفاظت ممکن ہوگی بلکہ غیر قانونی پتنگ بازی اور حادثات میں بھی کمی آئے گی، جس سے بسنت کا جشن محفوظ اور پرامن انداز میں منایا جا سکے گا۔






