سرکاری اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران اب تک کم از کم 64 خوارج مارے جا چکے ہیں، جب کہ بلوچستان میں اسی عرصے کے دوران ہونے والے دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 102 تک پہنچ چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک علاقے کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک نہیں کر دیا جاتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپریشن شعبان آخر ہے کیا؟ یہ کیوں شروع کیا گیا؟ اور کیا یہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے؟

آپریشن شعبان کیوں شروع کیا گیا؟

اس آپریشن کا براہِ راست پس منظر مانگی ڈیم پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والا حملہ ہے، جس میں دہشت گردوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

اس حملے کے بعد سکیورٹی اداروں نے فیصلہ کیا کہ صرف جوابی کارروائی کافی نہیں بلکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت، اسلحہ کے ذخائر اور سہولت کاروں کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کیا جائے۔

اسی مقصد کے تحت  آپریشن شعبان  شروع کیا گیا، جس میں زمینی دستوں کے ساتھ فضائی نگرانی اور ہیلی کاپٹر گن شپ کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔

آپریشن کیسے جاری ہے؟

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں بلوچستان کے ان علاقوں میں مرکوز ہیں جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔

اس وقت زمینی سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن، فضائی نگرانی اور فضائی کارروائیاں، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی، سہولت کاروں اور مالی معاونت کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا دائرہ مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گرد دوبارہ منظم نہ ہو سکیں۔

 فتنہ الخوارج  سے کیا مراد ہے؟

پاکستانی ریاست اور سکیورٹی ادارے حالیہ برسوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروہوں کے لیے سرکاری طور پر  فتنہ الخوارج  کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ ریاست، عوام، مساجد، سکیورٹی فورسز اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف بھرپور فوجی اور انٹیلی جنس کارروائیاں ضروری ہیں۔

موجودہ صورتحال کیا ہے؟

سکیورٹی حکام کے مطابق متعدد علاقوں میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے، متعدد مشتبہ سہولت کاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، حساس شاہراہوں اور تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

وفاقی حکومت، صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ بھی آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کر چکے ہیں۔

کیا اس سے پہلے بھی ایسے آپریشن ہوئے؟

جی ہاں۔ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے خلاف کئی بڑے آپریشن کیے جا چکے ہیں۔

آپریشن راہِ راست (2009)

سوات میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں ریاست نے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا۔

آپریشن راہِ نجات (2009)

جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آپریشن ضربِ عضب (2014)

شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والا یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں شمار ہوتا ہے، جس میں متعدد کالعدم تنظیموں کے مراکز ختم کیے گئے۔

آپریشن ردالفساد (2017)

اس آپریشن کا مقصد پورے ملک میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ تھا۔

عزمِ استحکام (2024)

وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایک جامع قومی حکمتِ عملی کے طور پر "عزمِ استحکام" کا اعلان کیا، جس کے تحت مختلف علاقوں میں مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔

اسی تسلسل میں بلوچستان میں آپریشن شعبان کو بھی انسدادِ دہشت گردی کی حالیہ مہم کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس آپریشن سے کیا فوائد متوقع ہیں؟

اگر آپریشن اپنے اہداف حاصل کرتا ہے تو حکام کے مطابق اس سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم ہوں گے، سکیورٹی فورسز پر حملوں میں کمی آ سکتی ہے، شاہراہوں اور ترقیاتی منصوبوں کا تحفظ بہتر ہوگا، مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور سرحدی علاقوں میں ریاستی عملداری مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ صرف فوجی کارروائی کافی نہیں ہوتی۔ دیرپا امن کے لیے انٹیلی جنس، بہتر حکمرانی، معاشی ترقی، مقامی آبادی کی شمولیت اور سرحدی نگرانی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

سکیورٹی ذرائع واضح کر چکے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ آئندہ چند ہفتوں میں مزید انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا سکتے ہیں، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں تیز ہو سکتی ہیں، بلوچستان کے حساس اضلاع میں سکیورٹی مزید سخت کی جا سکتی ہے، سرحدی نگرانی اور چیکنگ کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ امکان بھی موجود ہے کہ دہشت گرد گروہ جوابی کارروائیوں کی کوشش کریں، جس کے باعث سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ رہیں گے۔

خیال رہے کہ آپریشن شعبان صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری حکمتِ عملی کا نیا مرحلہ ہے۔ مانگی ڈیم پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے بعد شروع ہونے والا یہ آپریشن اب وسیع انسدادِ دہشت گردی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

حکام اسے ریاستی رٹ کی بحالی اور دہشت گرد نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جب کہ ماہرین کے مطابق اس کی کامیابی کا انحصار صرف عسکری کارروائیوں پر نہیں بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، مقامی تعاون، ترقیاتی اقدامات اور مسلسل سکیورٹی پالیسی پر بھی ہوگا۔

آنے والے دن یہ واضح کریں گے کہ آیا آپریشن شعبان بلوچستان میں امن کے قیام کی سمت ایک فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔