سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نجی ٹی وی ڈرامے کا ایک منظر شیئر کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے لکھا کہ بھائی، ماننا پڑے گا، کراچی کی ترقی اور ٹرانسپورٹ کی مشہوری تو اب ڈراموں میں تفریح کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے، سفر ہر قدم پر خطر ہو رہا ہے۔ جو دامن تھا، دامن بدر ہو رہا ہے، جو مسافر اِدھر تھا، وہ اُدھر ہو رہا ہے۔ جو کالر تھا، گردن میں رہ گیا ہے، جو ٹماٹر تھا، تھیلے میں ٹر رہ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے، ہاتھ میں تو صرف پر رہ گیا ہے۔ کوئی کام اگر ہم سے ہو رہا ہے تو بس کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے۔
اس سے قبل بھی عظمیٰ بخاری نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُف! ہم تو ڈر گئے، اب کیا ہوگا؟
وزیر اطلاعات پنجاب نے بلاول بھٹو کے بیان پر مسکراتے ہوئے اسٹیکرز بھی شیئر کیے تھے۔
واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر انتخابات کو خونی اور قاتل انتخابات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صاف و شفاف انتخابات نہیں تھے بلکہ دھاندلی زدہ، گولیوں والے اور خونی انتخابات تھے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس سب کے باوجود آپ نے پاکستان پیپلز پارٹی کو 9 انتخابی نشستوں پر کامیاب کروایا ہے۔ میرپور اور مظفرآباد میں جو نشستیں چوری کی گئیں، وہ آپ کو واپس دلواؤں گا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمت نہیں ہارتی، ہم پیچھے نہیں ہٹتے اور نہ ہی میدان چھوڑتے ہیں۔







