نجی  نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق  رانا ثنااللہ نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر حکومت کا ایک واضح مؤقف ہے اور اس مؤقف کو سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فورمز پر زیر بحث لایا جانا چاہیے تاکہ قومی مفاد میں بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی آئینی ترمیم یا اس میں تبدیلی کا عمل صرف اور صرف اتفاق رائے سے ہی ممکن ہونا چاہیے۔

انہوں  نے اسلام آباد میں گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر بھی گفتگو کی اور مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی، عمارت کب تعمیر ہوئی اور آیا تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا بے ضابطگی سامنے آئے تو اس کا مکمل احتساب ہونا چاہیے۔

پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان ماضی میں ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف بیانیے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملاقاتوں کا واضح طریقہ کار طے کر دیا ہے، جس پر عمل درآمد ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غلط استعمال کا امکان نہ رہے۔

مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی

انہوں نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت اور آئینی تقاضا ہے، جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے، عوامی مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں ہو سکتے۔

خواجہ آصف کے اٹھارویں ترمیم سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے اور کسی رکن کو بات کرنے سے روکنا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواجہ آصف نے اسمبلی میں ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا اور انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے اور اگر کسی کو اختلاف ہے تو اس کا جواب پارلیمنٹ کے اندر دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اٹھارویں ترمیم پر حکومت کا مؤقف موجود ہے اور اس پر بات چیت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق آئین میں بہتری کا راستہ کھلا ہے اور اگر تمام سیاسی قوتیں سنجیدگی سے بیٹھیں تو قومی مفاد میں اصلاحات ممکن ہیں۔