اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق یہ معاہدے اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد باضابطہ طور پر حتمی شکل اختیار کر گئے۔ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا ایک بڑا حصہ نہ صرف بنیادی ڈھانچے بلکہ سماجی شعبے میں بھی خرچ کیا جائے گا، جس سے معاشرتی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو خاص فروغ ملے گا۔

ان معاہدوں میں سب سے اہم منصوبہ ایم-6 سکھر-حیدرآباد موٹروے کے ایک حصے کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک کے مواصلاتی نظام کو مزید فعال بنانا، نقل و حمل میں سہولت پیدا کرنا اور مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ ملکی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

اعلامیے کے مطابق قرضوں کا ایک بڑا حصہ غربت کے خاتمے اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔ غربت سے نجات کے منصوبے کے تحت انتہائی پسماندہ اضلاع اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کی معاشی صورتحال بہتر ہو اور انہیں مستقل آمدنی کے ذرائع میسر آئیں۔

اسی طرح ایک اور اہم معاہدے کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں اسکول سے باہر بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کا مقصد تعلیمی مواقع تک رسائی کو بڑھانا اور بچوں کی تعلیم میں شمولیت کو فروغ دینا ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن نے مزید بتایا کہ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے کموڈٹی فنانسنگ کی مد میں قلیل مدتی مالی تعاون کے طور پر 700 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے تحت رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں اب تک 383.78 ملین ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں، جو ملک کی مالی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مالی تعاون پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور نہ صرف بنیادی ڈھانچے بلکہ تعلیم، غربت کے خاتمے اور سماجی بہبود کے منصوبوں میں بھی مثبت تبدیلی لائے گا۔ اقتصادی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بین الاقوامی تعاون سے ملک کی معیشت میں استحکام آئے گا اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہو سکیں گے۔