تنظیم کی جانب سے جاری ایک فیس بک پوسٹ کے مطابق ملک گیر احتجاجی مارچ اور ریلیاں نماز جمعہ کے بعد منعقد کی جائیں گی۔ انقلاب منچہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انصاف کے مطالبے کے لیے ان مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔

یاد رہے کہ تنظیم کے ترجمان شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکا کے علاقے پراتن پلٹن میں کلورٹ روڈ پر اس وقت سر میں گولی مار دی گئی تھی جب وہ رکشے میں سفر کر رہے تھے۔ واقعے کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تاہم وہ 18 دسمبر کی شب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

شریف عثمان ہادی نہ صرف انقلاب منچہ کے ترجمان تھے بلکہ وہ ڈھاکا 8 کے حلقے سے آئندہ انتخابات کے ممکنہ امیدوار بھی سمجھے جا رہے تھے۔ ان کی ہلاکت کو ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

20 دسمبر کو شریف عثمان ہادی کی تدفین ڈھاکا یونیورسٹی میں قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے پہلو میں کی گئی تھی۔ ان کے قتل کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر انقلاب منچہ نے ملک گیر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔