انہوں نے یہ بات نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے دورے کے دوران انسپکٹرز جنرل آف پولیس، ایڈیشنل آئی جیز اور سینئر پولیس افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔

نیشنل پولیس اکیڈمی پہنچنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی نے پرتپاک استقبال کیا، جہاں ایک چاق و چوبند پولیس دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں فیلڈ مارشل نے پولیس شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، اور ان شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی اور عوامی تحفظ کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے دہشت گردی، سنگین جرائم اور اندرونی سلامتی کے پیچیدہ چیلنجز کے دوران پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دی ہیں۔

دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو اسکول فار ہائی امپیکٹ ایلیٹ لا انفورسمنٹ ڈیولپمنٹ (SHIELD) سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے، تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور فورس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جاری مختلف پروگرامز اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے کیڈٹ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) سے بھی ملاقات کی، جہاں انہوں نے کہا کہ پولیس شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پولیس کو ریاست کی پہلی دفاعی لائن تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے نوجوان افسران پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت، قانون کی پاسداری اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔

انہوں نے اداروں کے مابین قریبی تعاون، جدید پولیسنگ کے طریقۂ کار کے فروغ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پولیس کی جانب سے قانون و امن کا قیام ایک مقدس ذمہ داری ہے، اور مسلح افواج پاکستان ہمیشہ بہادر پولیس فورس اور اس کے جوانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔

اس موقع پر سینئر پولیس قیادت نے پولیسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے، پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، جدید تربیت اور موجودہ و مستقبل کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔