رانا ثنا اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو خوشگوار، سنجیدہ اور باوقار ماحول دیکھنے میں آیا، وہی ماحول ایوان کے اندر بھی نظر آنا چاہیے، اختلافات کے باوجود اگر گفتگو شائستگی اور پارلیمانی اصولوں کے دائرے میں رہے تو قانون سازی اور جمہوری عمل بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی بنیاد عوام کے ووٹ پر ہوتی ہے، اور اگر عوام کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا جائے تو نظام آگے نہیں بڑھ سکتا،انتخابی نتائج پر اعتراض کرنا یا ہار تسلیم نہ کرنا پاکستانی سیاست میں کوئی نیا رجحان نہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں، یاد دلایا کہ 2018 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت خود اپوزیشن میں تھی اور اس وقت بھی انتخابی نتائج اور طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ میں اداروں کے خلاف بات برداشت نہیں ہوگی، اسپیکر قومی اسمبلی
انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، غیر معمولی صف بندیاں اور مخصوص سیاسی گروہوں کی تشکیل سب کے سامنے تھی،اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کرکے اسلام آباد لایا گیا، انہیں نئی سیاسی شناخت دی گئی اور یہ سب کچھ انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی واضح مثالیں تھیں۔
ان کے مطابق ان تلخ سیاسی تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت کا تقاضا ہے کہ جمہوری اقدار کو مضبوط کیا جائے، ووٹ کے تقدس کو تسلیم کیا جائے اور پارلیمان کے وقار کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سیکھ لیا تو جمہوری نظام مضبوط ہوگا اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی امنگوں کی نمائندہ ہے، اس لیے ایوان کے اندر ہونے والی گفتگو اور رویے بھی عوام کے لیے مثال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ذاتی حملوں اور تلخ کلامی سے گریز کرتے ہوئے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے، تاکہ جمہوری عمل آگے بڑھے اور اداروں پر عوام کا یقین مضبوط ہو۔







