1956 میں حسین شہید سہروردی کے دور میں پٹرول تقریباً 40 پیسے فی لیٹر ہو گیا۔ یہی وہ سال تھا جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین نافذ کیا اور خود کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا۔

1965 میں ایوب خان کے دور میں پٹرول تقریباً 65 پیسے فی لیٹر تھا۔ اسی سال پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی ہوئی جس نے معیشت پر گہرے اثرات چھوڑے۔

1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پٹرول 1.60 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ یہ وہ دور تھا جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا اور ملک نئے سرے سے خود کو سنبھال رہا تھا۔

1985 میں محمد خان جونیجو کے دور میں پٹرول کی قیمت 3.70 روپے فی لیٹر تھی۔ اسی زمانے میں پاکستان، افغان جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہا تھا۔

1990 میں بینظیر بھٹو کے دور میں پٹرول 6 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز تو نہیں تھے مگر معاشی اصلاحات پر بحث شروع ہو چکی تھی۔

1997 میں نواز شریف کے دور میں پٹرول 11 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ اسی دور میں موٹروے منصوبے اور ایٹمی پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔

2004 میں شوقت عزیز کے دور میں پٹرول تقریباً 40 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی زمانے کو پاکستان کی تیز ترین معاشی ترقی کے ادوار میں شمار کیا جاتا ہے۔

2008 میں یوسف رضا گیلانی کے دور میں پٹرول 87 روپے فی لیٹر تک چلا گیا۔ اسی عرصے میں دنیا بھر میں مالیاتی بحران آیا جس کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچے۔

2013 میں نواز شریف کے دور میں پٹرول تقریباً 110 روپے فی لیٹر تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا آغاز ہوا۔

2020 میں عمران خان کے دور میں پٹرول تقریباً154  روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اسی سال دنیا کورونا وبا کا شکار ہوئی اور عالمی معیشت شدید دباؤ میں آ گئی۔

2024 میں شہباز شریف کے دور میں پٹرول 280 روپے فی لیٹر سے بھی اوپر چلا گیا۔ اس دوران پاکستان آئی ایم ایف پروگرام اور مہنگائی کے بڑے چیلنجز سے لڑ رہا تھا۔

اور 2026 تک آتے آتے پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی حد بھی عبور کر چکی ہے۔

 25  پیسے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج سینکڑوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں بدلی، بلکہ وقت، معیشت اور زندگی کا پورا حساب بدل گیا ہے۔ اوراب سوال یہ ہے… آگے پٹرول کی قیمیتیں کہاں تک جائیں گئ؟