اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے معتمد عام صاحبزادہ وسیم حیدر نے پاکستان میٹرز کے میزبان اظہر تھراج سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی شعبہ بدترین بحران کا شکار ہے۔ آج پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے جو مسائل ہیں وہ کسی ایک ادارے یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-اے کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 39 فیصد بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔
معتمد اسلامی جمعیت طلبہ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں سے ایک کروڑ کے قریب صرف پنجاب سے ہیں۔ وزیرِ تعلیم پنجاب کا یہ کہنا کہ صوبے میں یکساں نصاب نافذ ہو چکا ہے، عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کا تعلیمی نظام ملک میں سب سے زیادہ پسماندہ ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کا ٹی ایل پی سے خفیہ معاہدہ! لاہور سے مریدکے تک کتنے افراد قتل ہوئے؟
ایک کروڑ سے زائد بچے کیوں اسکول سے باہر ہیں؟ حکومت نے اُن کے لیے کون سا خصوصی بجٹ مختص کیا ہے؟






