پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بریرہ خان نے کہا ہے کہ میرے لیے ٹائم لِمٹ کچھ نہیں، میں ہر لمحے کو جیتی ہوں کیونکہ یہ لمحہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ بریرہ بتاتی ہیں کہ سولو بائیکنگ کا فیصلہ لینا آسان نہیں تھا، والدین کو منانا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ آپ پر یقین نہیں کرتے بلکہ سوسائٹی پر نہیں کرتے۔ میں نے صرف ایک طریقہ اپنایا، کر کے دکھایا۔ جب اُنہیں یقین آگیا کہ میں یہ کرسکتی ہوں، تو اُنہوں نے روکنا چھوڑ دیا۔

بریرہ خان کہتی ہیں کہ والدین کی سپورٹ اسی وقت ملتی ہے، جب آپ انہیں اعتماد میں لیں اور ثابت کریں کہ آپ ذمہ داری کے ساتھ سفر کرسکتی ہیں۔

بریرہ خان نے یہ سفر کیسے شروع کیا، راستے میں ان کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے ان پر کیسے قابو پایا؟ کیا کبھی لوگوں نے ان کو ہراساں کرنے کی کوشش کی؟ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں۔