آج سے تقریباً چھ دہائیاں پہلے پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک ایسا دعویٰ کیا گیا تھا جو

 اقتصادی تاریخ کا ایک علامتی نعرہ بن گیا۔ 1968 میں اس وقت کے چیف اکانومسٹ اور سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تقریباً چھیاسٹھ فیصد صنعتوں اور بینکنگ و انشورنس کے ستاسی فیصد نظام پر محض بائیس خاندانوں کا کنٹرول ہے۔

ڈاکٹر الحق نے اگرچہ بعد میں وضاحت کی کہ ’بائیس‘ کا ہندسہ دراصل ایک علامت تھا، جو دولت کے ارتکاز یعنی چند ہاتھوں میں سمٹنے کے نظام کو ظاہر کرتا ہے، لیکن پاکستانی عوام کی نظر میں یہ خاندان امیر ترین طبقے کی ٹھوس علامت بن گئے۔ محققین نے ان خاندانوں کی فہرستیں بھی جاری کیں، جن میں داؤد گروپ، سہگل، آدم جی، نشاط اور حبیب ہاؤس جیسے نام شامل تھے۔

ماضی کی معیشت پر چھائے یہ خاندان کہاں گئے؟ اب کس حال میں ہیں؟موجودہ وقت میں پاکستان کے سب سے امیر لوگ کون ہیں، ان کے نام کس ترتیب میں آتے ہیں اور ان کے پاس کتنی دولت ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں