انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کم از کم چار سے پانچ مرتبہ ایئر اسٹرائکس کیں، جب کہ حالیہ جھڑپوں میں افغان طالبان نے سات سے آٹھ سرحدی مقامات پر حملے کیے۔
شبیر احمد یوسفزئی کے مطابق تازہ ترین واقعہ اسپن بولدک کے قریب بابِ دوستی کے مقام پر پیش آیا، جہاں افغان طالبان نے پاکستانی گیٹ کو دھماکے سے تباہ کر دیا۔ اس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بال افغان طالبان کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ چاہیں تو مذاکرات کے ذریعے معاملات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن موجودہ حالات میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کابل میں پاکستانی فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے اور عوامی سطح پر نفرت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہر افغان امور نے مزید کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں امریکا کا کردار مرکزی ہے، کیونکہ اس کے انخلا کے بعد طاقت کا ایک خلا پیدا ہوا جس سے شدت پسند گروہوں کو فائدہ ہوا، افغان وزیرِ خارجہ کا انڈیا کا حالیہ دورہ اور امریکا کے ساتھ بڑھتا رابطہ بھی ان واقعات کی ٹائمنگ سے جڑا نظر آتا ہے۔
کیا دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوپائیں گے؟ کیا جنوبی ایشیا میں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے اور انڈیا اس سارے کھیل میں کیسے شریک ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے پوڈکاسٹ کو مکمل دیکھیں۔







