اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے پر اسلام آباد نے امید کی تھی کہ مغربی سرحد پر استحکام قائم ہوگا، مگر ہوا اس کے برعکس اور ساتھ ہی سرحدی جھڑپیں اور دہشت گرد حملے بڑھ گئے ۔
10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب طورخم، چمن، کرم، بہرام چہ اور باجوڑ میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ افغان طالبان نے الزام لگایا کہ پاکستان نے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جب کہ پاکستان نے اسے بلا اشتعال کارروائیاں قرار دیا اور کہا کہ یہ حملے تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورکس کو تحفظ دینے کے لیے کیے گئے۔
پاکستان کی جوابی کارروائی میں 21 دشمن پوزیشنیں تباہ کی گئیں، 200 سے زائد جنگجو مارے گئے، جب کہ 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔
واضح رہے کہ حالیہ واقعہ پاکستان کے لیے دو بڑے چیلنجز پیدا کر رہا ہے ایک طرف افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور دوسری طرف کابل کے ساتھ تیزی سے بگڑتے سفارتی تعلقات ہیں۔
سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں طورخم اور چمن بارڈر بند کر دئیے گئے ہیں، جس سے دو طرفہ تجارت اور مزدور طبقے پر شدید اثر پڑا ہے۔ افغانستان میں اشیائے خوردونوش مہنگی ہو گئیں اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔
نتیجتاً، برسوں پر مشتمل برادرانہ رشتہ اب شک، بداعتمادی اور تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے پورے خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مزید جانئیے اس ڈیجٹل رپورٹ میں






