پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مزدور کا کہنا تھا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز آئے روز منصوبوں کا افتتاح تو کرتی ہے لیکن ان منصوبوں سے ہمارا کچھ نہیں ہوتا، یہ منصوبے وہ ہیں جو چند لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکیں بنانے، الیکٹرک بسیں چلانے سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں، ہمارا فائدہ اس وقت ہوگا کہ جب مہنگائی میں کمی ہوگی، روزگار کہ بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے، آج تین دن ہو گئے ہیں مجھے مزدوری نہیں ملی ، کیا میں بچوں کو سیمنٹ کھلاؤں ؟
ان کا کہنا تھا کہ میں نے 3 ماں کا بجلی بل جمع نہیں کروایا، آج میں نے اس کی انسٹالمنٹ کروا کر آدھا بل جمع کروایا، اگر میں بک جمع نا کرواتا تو بجلی کا میٹر کاٹ دیتے۔
ایک اور مزدور نے کہا کہ ہم جب اڈے پر کھڑے ہوتے ہیں تو وہاں سے ہمیں پیرا فورس والے ہٹا دیتے ہیں کہ یہاں کھڑے نا ہوں، تو بتائیں ہم کہاں جائیں؟ ہم منڈی سے ادھار پھل لے کر اسے بیچتے ہیں، لیکن پیرا فورس ریہڑی بانوں کو بھی سڑک پر کھڑے ہونے دیتے، ہم 40000 ہزار کا سامنان ادھار لاتے ہیں اور ہماری سیل 10000 ہزار ہوتی ہے، بتائیں بقیہ پیسے ہم کہاں سے پورے کریں؟ ہم لاکھوں روپے کے قرض دار ہو چکے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں۔







