یہ وہ سڑک ہے جو شہر کے وسط کو ٹھوکر نیاز بیگ اور موٹر وے سے جوڑتی ہے مگر پچھلے ڈیڑھ سال سے اس کی خستہ حالی نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔
ایک طرف مریم نواز اور ان کی کابینہ آئے روز عوام کو سب اچھا ہونے کی نوید سناتی ہے، کبھی ستھرا پنجاب پروگرام کی بات ہوتی ہے۔
کبھی الیکٹرک بسیں سڑکوں پر دوڑتی ہوئی دکھائی جاتی ہیں تو کبھی نت نئے منصوبوں کے افتتاح کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی جاتی ہیں۔
پنجاب حکومت کا فوکس زیادہ تر تشہیری مہمات پر ہے، بجائے اس کے کہ عوامی فلاح کے منصوبے مکمل کیے جائیں۔
ہر نئے منصوبے کا آغاز تو شور شرابے کے ساتھ ہوتا ہے، مگر انجام مٹی کی دھول میں گم ہو جاتا ہے
ترقی کے دعوے تب معنی رکھتے ہیں جب عوام کو ان کا عملی ثبوت نظر آئے، صاف سڑکیں، کم ٹریفک، محفوظ شہر مگر حقیقت یہ ہے کہ زمینی حقائق ان دعوؤں کی قلعی کھول دیتے ہیں۔
وحدت روڈ کا تعمیراتی منصوبہ چھ ماہ پہلے شروع ہوا تھا مگر آج تک مکمل نہ ہو سکا، پہلے ٹھیکیدار نے ذمہ داری پوری نہ کی تو منصوبہ دوسرے ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا گیا، لیکن حالات جوں کے توں ہیں
نتیجتاً، سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے، ٹریفک جام روز کا معمول ہے، اور ٹریفک حادثات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
وحدت روڈ کے تاجروں نے پاکستان میٹرز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کاروبار تباہ ہو چکا ہے، گاہک اب اس سڑک پر رکنا پسند نہیں کرتا، گرد و غبار اور کھڈوں نے کاروباری حالات بدتر کر دیے ہیں، نا تو کاروبار چل رہا ہے، نہ مہنگائی میں جینے کی گنجائش بچی ہے۔
حکومت صرف وعدے کر رہی ہے، عمل کہیں نظر نہیں آتا، ایک دکاندار نے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا خدارا، اس منصوبے کو جلد مکمل کروائیں تاکہ ہم روزی کما سکیں، آپ کی ترقی کے دعوے صرف ٹی وی اسکرین تک محدود ہیں۔
مزید پڑھیں: پاک فوج غزہ امن فورس کا حصہ ہوگی یا نہیں؟ انڈین میڈیا کے دعوؤں کی حقیقت سامنے آ گئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر واقعی ترقی اور اصلاحات کے دعوے کر رہی ہے تو سب سے پہلے لاہور جیسے بڑے شہر کی بنیادی سڑکیں مرمت کروائیں، ورنہ یہ تمام منصوبے محض فوٹو سیشن اور سیاسی نعرے بن کر رہ جائیں گے۔
فی الحال لاہور کے باسیوں کے لیے "ترقی" صرف اشتہارات میں موجود ہے، حقیقت میں نہیں۔






