یہ شو معروف اداکارہ عائشہ عمر نے متعارف کرایا ہے، جو اس سے پہلے "بلبلے" جیسے مزاحیہ ڈرامے اور رمضان کی مذہبی نشریات میں دیکھی جاتی رہی ہیں۔ لیکن اب وہ ایک ایسے ریئلٹی شو کی میزبانی کر رہی ہیں جس میں چار مرد اور چار عورتیں ایک بنگلے میں اکٹھے رہتے ہیں، ڈیٹس پر جاتے ہیں اور ہر لمحہ کیمرے ان پر نظر رکھتے ہیں۔
یہ تصور پاکستانی معاشرے کے لیے نیا ضرور ہے، لیکن دراصل یہ فارمیٹ مغربی پروگراموں جیسے Love Island اور Love is Blind سے لیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ اسے غیر ملکی کلچر کی نقل کہہ کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
عائشہ عمر کا کہنا ہے کہ یہ شو ہماری ثقافتی اقدار کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے، مگر سوشل میڈیا پر لوگوں کا ردعمل اس کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی ہماری ثقافت ہے، تو پھر “حیا” اور “شرافت” جیسے الفاظ کو لغت سے نکال دینا چاہیے۔
قانونی ماہرین بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس طرح کے شوز پاکستان کے قانون کے مطابق ہیں؟
پیمرا کے ضابطہ اخلاق 2015 کے مطابق کوئی بھی ایسا مواد نشر نہیں کیا جا سکتا جو فحش یا غیر اسلامی ہو۔تاہم، پیمرا نے وضاحت دی ہے کہ لازوال عشق ٹی وی پر نہیں بلکہ یوٹیوب جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر ہوگا، اس لیے وہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
شو کے نام پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے۔لفظ “عشق” کوئی عام لفظ نہیں بلکہ مذہبی اہمیت رکھتا ہے، جو اللہ اور رسول ﷺ کی محبت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے مقدس لفظ کو ایک ڈیٹنگ شو کے عنوان میں استعمال کرنا بے ادبی کے مترادف ہے۔علماء کا کہنا ہے کہ اسلام میں “حیا” ایمان کا حصہ ہے، لیکن اس شو میں حیا کو پرانا نظریہ قرار دے کر جدیدیت کے نام پر مسترد کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل دو انتہاؤں میں بٹا ہوا ہے۔ایک طبقہ کہتا ہے کہ “دنیا بدل چکی ہے، اب ایسی چیزوں کو نارمل سمجھنا چاہیے، یہ صرف تفریح ہے، جب کہ دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ یہ تفریح نہیں، بلکہ بے حیائی ہے جو نوجوان نسل کو گمراہ کرے گی۔
واضح رہے یہ بحث صرف آن لائن نہیں، بلکہ گھروں اور دوستوں کی محفلوں میں بھی جاری ہے۔ہیش ٹیگز جیسے #BoycottLazawalIshq اور #ProtectOurCulture ٹوئٹر اور فیس بک پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔عوام کی ایک بڑی تعداد کا مطالبہ ہے کہ ایسی تفریح کو روکا جائے جو ہماری تہذیب اور مذہبی قدروں کے خلاف ہو۔
کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری واقعی ترقی کرنا چاہتی ہے، تو اسے ایسے شوز بنانے چاہئیں جو ہماری ثقافت، اخلاقیات اور خاندانی اقدار کو فروغ دیں نہ کہ ان کی جگہ مغربی انداز مسلط کریں۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہماری نوجوان نسل کے لیے کامیابی اور خوشی کا مطلب صرف چمکتی اسکرینوں پر دکھائی دینے والا گلیمر رہ گیا ہے؟ یا پھر ہم اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کردار، علم اور حیا ہی اصل کامیابی ہیں؟
مزید سوالات کے جوابات جاننے کے لیے دیکھئے پاکستان میٹرز کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں۔






