پاکستان میٹرز کی اس پوڈکاسٹ میں میزبان اظہر تھراج کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تابش قیوم نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود، کچھ قوتیں ہیں جو افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔
تابش قیوم نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 30 سے 40 سال میں افغان مہاجرین کی خدمت اور محفوظ رہائش فراہم کی اور ہر تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر میں وہ طاقتیں بھی شامل ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن قائم نہیں چاہتیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ملک رہا ہے۔ ملک کے اندر متعدد حملے ہوئے ہیں، جیسے اے پی ایس حملہ، پارکوں میں دھماکے، عدالتوں اور مختلف پیشہ ور طبقوں پر حملے۔ ان سب کے باوجود پاکستان نے دہشت گرد عناصر کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور کلابوشن جیسے ملزمان کو گرفتار کر کے عالمی سطح پر پیش کیا۔
تابش قیوم نے کہا کہ انڈیا اکثر پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے، جب کہ حقیقت میں پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں طالبان کی حکومت، ہائبرڈ وار کی حکمت عملی اور بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت کو دہشت گردی کے پھیلاؤ کی وجوہات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی نگرانی اور FATF کے تحت اپنی شفافیت بھی ثابت کی اور اس وجہ سے ملک گرے لسٹ سے وائیٹ لسٹ میں شامل ہوا۔ انڈکے دہشت گردانہ حملے، جیسے بھاولپور اور دیگر علاقوں میں، پاکستان کی مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے باوجود ناکام ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ملکی استحکام کو ہر صورت برقرار رکھے گا۔







