لاہور میں بھی دیوالی کی رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جہاں شرکاء نے دیے جلائے۔


اس دن پوجا کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، پوجا سے پہلے خصوصی تھالی تیار کی جاتی ہے جس میں ہمہ قسم ڈرائی فروٹس، تازہ فروٹس اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں رکھی جاتی ہیں۔


پوجا پاٹ کے دوران ہندو مذہب کی روایت کے مطابق مختلف دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں۔ نرملا کہتی ہیں کہ پوجا میں گھر والوں اور ملک قو قوم کی سلامتی کی دعا مانگی جاتی ہے۔


پوجا جب ختم ہوتی ہے تو بڑے بچوں کو ’خرچی‘ دیتے ہیں۔


لاہور میں سجائی گئی تقریب میں زیادہ تعداد ان سٹوڈنٹس کی تھی جو مختلف یونیورسٹیز یا کالجز میں پڑھ رہے ہیں۔ اس تقریب میں کھیت کمار بھی شریک تھے۔ کھیت کمار نے کہا ہے کہ لاہور میں ہندو برادری کے گھر تو تھوڑے ہیں لیکن تھرپارکر اور سندھ سے آئے سٹوڈنٹس زیادہ ہیں۔


دیوالی میں آنے والی گوری سندھو خوشی بھی محسوس کررہی تھیں مگر گھر سے دور ہونے کا دکھ بھی تھا۔ 


گوری سندھو کہتی ہیں کہ لاہور میں گھر جیسا احساس ہوتا ہے مگر جب مذہبی تہوار آتے ہیں گھروالوں کی کمی کو محسوس کرتے ہیں۔ بطور انسان سب برابر ہیں، یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں۔


ہندو دھرم کے مطابق یہ تہوار یا عید چراغان روحانی اعتبار سے اندھیرے پر روشنی کی، جہالت پر علم کی، بُرائی پر اچھائی کی اور مایوسی پر اُمید کی فتح و کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہندو برادری پاکستان میں بہت خوش نظر آئی۔