پاکستان میٹرز کی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ عمارت کبھی علاقے کا تعلیمی اثاثہ بن سکتی تھی، مگر حکومتی عدم توجہی نے اسے بھوت بنگلہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

پاکستان میٹرز کے نمائندے کو لائبریری کا کھنڈر نما حال بتاتے ہوئے صحافی ساجد خان کا کہنا تھا کہ آج کل ایک میم مشہور ہے کہ شکر ہے میں اندھا ہوں، مگر یہاں تو لگتا ہے حکمران اور بیوروکریسی اندھی ہے۔ کروڑوں روپے کا فرنیچر، شیشے اور عمارت کیڑوں اور دھول کے سپرد کر دی گئی ہے۔

لائبریری کے اندر جگہ جگہ مکڑیوں کے جالے، ٹوٹے شیشے اور بوسیدہ کرسیاں واضح کرتی ہیں کہ عمارت طویل عرصے سے بند اور غیر فعال ہے۔ یہاں بچوں نے سی ایس ایس اور پی ایم ایس پڑھنا تھا مگر کتاب ہی نہیں۔

ایک اور مقامی صحافی نے صورتحال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ علماریوں کی قطاریں تو زبردست ہیں، مگر کتابیں ایک بھی نہیں۔ یہاں نوجوانوں نے پڑھنا تھا، تحقیق کرنی تھی، مستقبل بنانا تھا مگر سسٹم سرے سے موجود ہی نہیں۔

مزید جاننے کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں۔