پاکستان میٹرز کی خصوصی ٹیم نے روشن بھیلہ کا دورہ کیا، علاقے میں دسنیاب سہولیات کا جائزہ لیا، گاؤں کے رہائشی ناصر قصوریہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ جب ہسپتال بنا تو چالیس بیڈز کا تھا، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سیکرٹری ہیلتھ نے اسے 20 بیڈز کا کردیا ہے۔
حکومت ہیلتھ رورل پر کام کررہی ہے مگر ہمارے ہسپتال پرتوجہ نہیں دی جارہی۔
محمد جاوید نے بھی فنڈز کی کمی کا شکوہ کیا، مریم نواز سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روشن بھیلہ ہسپتال کو دوبارہ 40 بیڈز کا کیا جائے۔
لاہور سے دورہ کرنے والے ڈی ایم اے کے صدر انس گوندل نے کہا کہ عمارت بنانے والے نے خوبصورت عمارت بنادی مگر چلانے والوں کی نالائقی کی وجہ سے یہ ہسپتال کھنڈر بنتا جارہا ہے۔ اس ہسپتال کی حالت مریم نواز کے وژن کے خلاف ہے۔
مزید پڑھیں: کروڑوں کی لاگت سے بنی لائبریری کھنڈر بن گئی، عملہ اور کتابیں غائب







