سینیٹر مشاہد حسین سید نے بین الاقوامی گول میز کانفرنس میں اہم عالمی سیاسی اور اقتصادی چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دیرینہ دوست جان قاضی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، جو آج پاکستان کے اُن منفرد سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جن کا فوکس صرف ملکی سیاست تک محدود نہیں بلکہ وہ مسلم امہ، عالمی جنوب اور دنیا کے پسے ہوئے طبقات کے مسائل کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
مشاہد حسین نے کہا کہ جان قاضی کے والد مرحوم قاضی حسین احمد ایک ممتاز اسلامی رہنما اور ان کے بہترین دوست تھے، جن کے نظریات آج بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے پاکستان اور بیرونِ ملک مظلوموں کی آواز بننے میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اس روایت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مقرر نے عالمی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ آج دنیا میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ لندن اور نیویارک جیسے عالمی مالیاتی مراکز میں مسلمان رہنماؤں جیسے صادق خان اور زہران ممدانی کا ابھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اقلیتیں اور عالمی جنوب اپنی سیاسی جگہ بنا رہے ہیں۔
سید مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ بڑی تصویر میں دنیا ایک کثیر قطبی نظام کی طرف جا رہی ہے جس میں پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسی مسلم مڈل پاورز اہم کردار ادا کر رہی ہیں، خطے کی نئی تقدیر تراشنے میں یہ ممالک مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے فلسطین کی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے برسوں میں جاری تنازع کے باوجود اسرائیل فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ میں حماس کی زیر قیادت مزاحمت کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر جمی کارٹر کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ غزہ میں منعقد ہونے والے انتخابات مسلم دنیا کے آزاد ترین انتخابات تھے جن میں حماس نے جمہوری کامیابی حاصل کی۔
مشاہد حسین نے پاکستان اور فلسطین کے تاریخی رشتے پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات لاہور شہر سے جڑے ہوئے ہیں۔ 23 مارچ 1940 کو اسی سرزمین پر دو قراردادیں منظور ہوئیں جن میں ہندوستان کے مسلمانوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا مطالبہ شامل تھا۔
مشاہد حسین کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی مزاحمت کا ساتھ دیا۔ پاکستان واحد غیر عرب ملک ہے جس نے عرب۔اسرائیل جنگوں میں عملی کردار ادا کیا۔ پاکستانی پائلٹس نے 1973 کی جنگ میں اردن اور شام کی فضائیہ کے ساتھ مل کر اسرائیلی طیارے مار گرائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بانی رہنما محمد علی جناح نے 13 دسمبر 1947 کو امریکی صدر ہیری ٹرومین کو خط لکھ کر اسرائیلی ریاست کے قیام کی کھل کر مخالفت کی تھی، جو عالمی جنوب کے اصولی مؤقف کی بنیاد تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 1974 میں لاہور میں منعقدہ اسلامی سربراہ کانفرنس میں اہم کردار ادا کیا، جس میں پہلی مرتبہ PLO کو فلسطینی عوام کی واحد جائز نمائندہ تنظیم تسلیم کیا گیا۔
مشاہد حسین نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ اگر ہم ایک منصفانہ عالمی نظام چاہتے ہیں تو تین بڑے عالمی رجحانات کو سمجھنا ضروری ہے ایک سیاسی و معاشی طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونا اور دوسرا عالمی جنوب (ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ) کا ناگزیر ابھار شامل ہے اور تیسرا امریکہ اور یورپ کی عالمی بالادستی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں فوری نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں اور 2025 میں یہ کانفرنس ایسے وقت ہو رہی ہے جب بینڈونگ کانفرنس کی 70ویں سالگرہ ہے جسے عالمی جنوب کے احیاء کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔







