ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرونِ ملک سے آنے والے شرکاء کے جمِ غفیر کے باوجود یہ اجتماع بدنظمی کی بجائے پر امن اور  باقاعدہ انتظامات کی علامت نظر آیا۔ شرکاء کے لیے خیمہ بستیاں قائم کی گئیں، جہاں رہائش، تین وقت کا معیاری کھانا، صاف پانی اور بنیادی سہولیات منظم انداز میں فراہم کی گئیں۔ 

صفائی ستھرائی کے لیے مستقل ٹیمیں متحرک رہیں جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا گیا فیلڈ ہسپتال دن رات طبی خدمات فراہم کرتا رہا، جہاں ہزاروں افراد کا معائنہ اور علاج کیا گیا۔

اجتماع کے دوران عارضی واش رومز، وضو خانے اور دیگر سہولیات اس انداز سے نصب کی گئیں کہ نہ صرف شرکاء کو سہولت میسر رہی بلکہ ماحولیات اور پارک کے انفراسٹرکچر کو بھی کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا۔ سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ اجتماع کے اختتام پر یہ تمام عارضی انتظامات اس مہارت سے سمیٹ لیے گئے کہ گراؤنڈ پر کسی بے ترتیبی، کوڑا کرکٹ یا ٹوٹ پھوٹ کا شائبہ تک باقی نہ رہا۔

یہاں پر یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ جماعت اسلامی کے سیاسی حریف بھی جماعت اسلامی کے نظم و ضبط، پر امن ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا، ماضی میں کس کس کو سزائیں دی گئیں؟

 وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی جہاں جلوہ کرتی ہے وہاں ایک پتہ تک نہیں ٹوٹتا ، لاہور کہ مینار پاکستان میں جلسے کے بعد گراؤنڈ کو اصل حالت سے بھی زیادہ خوبصورت کر کے واپس انتظامیہ کے حوالے کیا 

یہ وہی تاریخی میدان ہے جہاں عموماً ایک روزہ سیاسی جلسوں کے بعد درختوں کے اکھڑنے، سبزہ تباہ ہونے اور پارک کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی خبریں گردش کرتی ہیں، مگر اس تین روزہ اجتماع کے بعد زمین نے کوئی فریاد نہ کی۔ 

سبزہ محفوظ رہا، درخت سلامت کھڑے نظر آئے اور پارک کی حالت بالکل ویسی ہی دکھائی دی جیسی اجتماع سے قبل تھی۔ بعد از اجتماع جب گراؤنڈ کا جائزہ لیا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے یہاں اتنے بڑے پیمانے پر کوئی اجتماع منعقد ہی نہیں ہوا ہو۔

درحقیقت یہی وہ مقام ہے جہاں جماعتِ اسلامی نے محض ایک اجتماع منعقد نہیں کیا بلکہ ایک نئی سیاسی روایت قائم کی۔

 ایک پُرامن، منظم اور ذمہ دار سیاسی جماعت ہونے کا عملی ثبوت دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی نے مینارِ پاکستان کے اس تاریخی میدان کو بغیر کسی بوجھ، نقصان یا بدنظمی کے، مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں انتظامیہ کے حوالے کر دیااور یہی طرزِ عمل اس اجتماع کو محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ تاریخ کا ایک مثبت باب بنا گیا۔