ذرائع کے مطابق، مرکزی تفتیشی افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈکی بھائی کے وکیل سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے عوض ریلیف کی پیشکش کی، تاہم ادائیگی کے باوجود کیس میں کوئی رعایت نہ دی گئی۔
ان الزامات کے بعد ملٹری انٹیلیجنس نے خفیہ تحقیقات شروع کیں اور پتہ چلا کہ این سی سی آئی اے کے اندر ایک باقاعدہ نیٹ ورک سرگرم تھا جو یوٹیوبرز، کال سینٹرز اور دیگر ڈیجیٹل کاروباروں سے مالی مفادات حاصل کرتا تھا۔
ذرائع کے مطابق، پانچ افسران سرفراز چوہدری، شعیب ریاض، ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان اور انسپکٹر عرفان کو حراست میں لیا گیا ہے، جن پر ماہانہ لاکھوں روپے وصول کرنے کے الزامات ہیں۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی (سعد الرحمان) کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ سے ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ جوا ایپس Binomo اور 1xBet کی تشہیر میں ملوث تھے اور دوکروڑ 10 لاکھ روپے وصول کیے۔
نئے انکشافات کے بعد یہ معاملہ صرف غیر قانونی پروموشن کا نہیں رہا بلکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اندر مبینہ کرپشن نیٹ ورک کی تحقیقات میں تبدیل ہو گیا ہے۔
مزید جاننے کے لیے پن شدہ ڈیجیٹل رپورٹ ملاحظہ کریں۔







