ملتان کی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ جنگلات و رینج مینجمنٹ کے چیئرمین، پروفیسر ڈاکٹر احسان قادر کو سنگین الزامات کے بعد فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب اسی شعبے کی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نے ان پر زیادتی، جسمانی تشدد، ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات لگائے۔
درج شدہ ایف آئی آر کے مطابق، اسسٹنٹ پروفیسر نے بتایا کہ مورخہ 25 ستمبر 2025 بوقت تقریبا 10 یا 11 بجے دن، ڈاکٹر احسان قادر نے انہیں اپنے دفتر میں بلا کر دروازہ اندر سے بند کیا اور ان پر زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ خاتون نے بار بار انکار کیا تو ان پر تشدد کیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
خاتون پروفیسر کے مطابق، ابتدا میں وہ خوف اور شرمندگی کی وجہ سے خاموش رہیں، مگر مسلسل ذہنی دباؤ، ذلت اور انصاف نہ ملنے کے احساس نے انہیں یہ معاملہ سامنے لانے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو تحریری درخواست دی اور تھانہ ڈی ایچ اے ملتان میں بھی باقاعدہ مقدمہ درج کرایا۔
یونیورسٹی کے ترجمان، پروفیسر ڈاکٹر طاہر محمود کے مطابق، شکایت 30 ستمبر کی دوپہر موصول ہوئی، اور فوری طور پر دوپہر دو بجے ہراسمنٹ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا۔ تاہم ملزم پروفیسر شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔ انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر معطلی کا فیصلہ کیا۔
یونیورسٹی کے لیگل ڈیپارٹمنٹ نے 30 ستمبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ وائس چانسلر نے بی زیڈ یو ایکٹ 1975 اور ترمیم شدہ ایکٹ 2012 کے تحت ڈاکٹر احسان قادر کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹا کر معطل کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن یونیورسٹی رجسٹرار کے دستخط شدہ ہے اور پرو چانسلر، سنڈیکیٹ ممبران، ڈینز اور ہراسمنٹ کمیٹی سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو بھی بھجوا دیا گیا۔
مزید پڑھیں: ’سینیٹرمشتاق احمد خان کو واپس لاؤ‘ غزہ مارچ کے شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کردیا
پولیس کے مطابق، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ڈاکٹر احسان قادر کو حراست میں لیا گیا اور آج عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈاکٹر شازیہ سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے بات نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر احسان قادر اور ڈاکٹر شازیہ کی شادی پہلے ہو چکی تھی جو طلاق پر ختم ہوئی۔
یہ واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر یونیورسٹیوں میں طاقتور عہدوں پر فائز افراد ایسے الزامات میں ملوث پائے جائیں تو خواتین اساتذہ اور طالبات کس طرح خود کو محفوظ سمجھ سکتی ہیں؟ کیا جامعات میں موجود ہراسگی کے خلاف کمیٹیاں اور قوانین واقعی مؤثر ہیں یا صرف کاغذوں تک محدود ہیں؟
فی الحال ڈاکٹر احسان قادر کا مستقبل انکوائری کمیٹی اور عدالتی کارروائی پر منحصر ہے، مگر یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں احتساب اور خواتین کی حفاظت کے لیے ایک سنگین امتحان ہے۔







