ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دروان کیا جس میں انہوں نے باضابطہ طور پر ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا اور  جہاں انہوں نے موجودہ سیاسی نظام، اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور جمہوری عمل میں اصلاحات پر تفصیلی گفتگو کی۔

اقرار الحسن نے کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ جمہوریت صحیح راستہ ہے، تو پھر جماعتِ اسلامی کو سپورٹ کرنا چاہیے، کیونکہ وہ سراج الحق سے لے کر حافظ نعیم الرحمن جیسے مڈل کلاس شخص کو پارٹی کا امیر بنایا جاتا ہے اور یہ سب انتخابات اور مشاورت کے ذریعے ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جماعتِ اسلامی کے سامنے ایک بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک مخصوص مذہبی مکتبۂ فکر کی نمائندگی کرتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ بات بحث سے بالاتر ہے کہ مولانا مودودی کا نظریہ اچھا ہے یا برا، لیکن چونکہ وہ ایک خاص مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے جماعتِ اسلامی پورے ملک کی سینٹرلائزڈ سیاسی قوت نہیں بن پاتی۔

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک ایسی سیاسی قوت ابھرنی چاہیے جو تمام مکاتبِ فکر، مذاہب، اور طبقات کو شامل کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسی پارٹی وجود میں آتی ہے جس میں ہر نظریے کے لوگ شامل ہوں اور فیصلے الیکشن کے ذریعے ہوں، تو وہی اصل جمہوری ماڈل ہوگا۔ دنیا بھر میں یہی نظام کامیاب ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات کا مطلب ایک ہی جماعت کا قیام نہیں بلکہ ایسی متعدد جمہوری جماعتوں کا ہونا ہے تاکہ عوام کے پاس ایک سے زیادہ حقیقی سیاسی آپشنز موجود ہوں، نہ کہ صرف ڈکٹیٹرشپ کی شکل میں کہ ایک بادشاہ سے دوسرے بادشاہ کا انتخاب۔

اقرار الحسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ خود کو سیاستدان نہیں بلکہ ایک صحافی اور خود کو ایک فکری کارکن سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کوئی سیاسی عہدہ نہیں لوں گا، الیکشن نہیں لڑوں گا اور کسی مالی یا حکومتی فائدے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک فکری تحریک پیدا ہو جو جمہوریت، طلبہ یونین اور بلدیاتی نظام کی بحالی پر یقین رکھتی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں ایک ایسی ڈیموکریٹک پارٹی تشکیل پائے جس میں فیصلے نیچے سے اوپر تک مشاورت اور انتخاب کے ذریعے ہوں، نہ کہ کسی ایک شخص کے اشارے پر۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھل کر بات کیوں نہیں کرتے، تو اقرار الحسن نے کہامیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ ہے، لیکن یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سیاستدان بالکل معصوم ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہی لوگ بار بار اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جا بیٹھتے ہیں، مارشل لا لگتا ہے تو مٹھائیاں بانٹتے ہیں، کندھا پیش کرتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف فوجی مداخلت کو الزام دینا کافی نہیں، بلکہ یہ سوچنا ہوگا کہ یہ مداخلت ممکن کیوں ہوئی اور سیاستدانوں نے اس کے لیے راہ کیوں ہموار کی۔

اُن سے سوال کیا گیا کہ آپ کو بار بار قسمیں کھانے کی کیا ضرورت پیش آ رہی ہے کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا بندہ نہیں ہوں، کیا آپ میں اتنی قابلیت نہیں ہے کہ آپ اپنے عمل سے یہ ثابت کر سکیں۔

اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں کسی پر اعتماد نہیں رہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب عمران خان صاحب کی بہن علیمہ خان جیسی محترم خاتون پر بھی اپنے ہی پارٹی کے وزیرِاعلیٰ نے ٹاؤٹ ہونے کا الزام لگا دیا، تو عام آدمی کی کریڈیبلٹی کی کیا حیثیت رہ گئی؟ اسی ماحول کی وجہ سے مجھے بار بار وضاحت دینی پڑتی ہے کہ میرا کسی ادارے سے تعلق نہیں۔