مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت کی علامت سمجھے جانے والے مقامات کو آج ایک محتاط مگر ماہرانہ  ذریعے سے  دوسری زندگی دی جا رہی ہے، جن میں جیساکہ شاہی قلعہ، مسجد وزیر خان اور تاریخی شاہی حمام شامل ہیں۔

برسوں تک یہ تعمیراتی شاہکار خاموشی سے شکست و ریخت کا شکار رہے،  دراڑیں پھیلتی  گئیں، رنگ پھیکے پڑ گئے اور کبھی پرکشش رہنے والے یہ مقامات آہستہ آہستہ اپنی دلکشی کھونے لگے، لیکن اب والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (ڈبلیو سی ایل اے) کی قیادت میں آغا خان کلچرل سروس پاکستان کے تعاون سے ایک نئی کوشش اس صورتحال کو بدل رہی ہے۔

یہ محض تزئین و آرائش نہیں بلکہ اپنی اصل کی طرف بحالی کا عمل ہے۔ ماہر کاریگر، معمار اور فنکار باہم مل کر کام کر رہے ہیں،  فریسکو  (نقاشی)، نازک  سٹکو  (گچ کاری) اور باریک  فلیگری  (منبت کاری) جیسی قدیم تکنیکیں استعمال کر رہے ہیں۔

یہ طریقے نہ صرف دیواروں کی مرمت کرتے ہیں بلکہ ان کے اندر بسی روح کو بھی بیدار کر دیتے ہیں۔

مسجد وزیر خان کے صحن میں قدم رکھیں تو آپ کو وہاں صرف تعمیراتی کام نہیں بلکہ ورثے کی ایک زندہ مثال ملے گی۔ گنبدوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے، دیواروں کی مرمت کی جا رہی ہے اور دھندلی پڑ جانے والی نقاشی کو ان رنگوں کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے جو کبھی آنکھوں کو خیرہ کر دیتے تھے۔

مسجد کے باہر آس پاس کی گلیاں بھی بدل رہی ہیں۔ چوک وزیر خان کے پرانے گھروں کی بحالی کی جا رہی ہے، جس سے ایک نظر انداز شدہ محلہ دوبارہ زندگی سے بھرپور جگہ میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں تاریخ صرف محفوظ نہیں کی جاتی بلکہ اسے محسوس بھی کیا جا سکتا ہے۔

آئینوں کا محل کہلایا جانے والا شیش محل اپنی روشنی دوبارہ پا رہا ہے، اس کے اندر کام نازک کے ساتھ نہایت دشوار ہے۔ وقت کی دھول میں کھو جانے والے شیشے کے ننھے ٹکڑوں کو نہایت احتیاط سے دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے۔

اس کوشش نے شکارپور میں دم توڑتی ایک کرافٹ انڈسٹری کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جہاں اب کاریگر اصل ڈیزائن سے مماثلت رکھنے والے مخصوص  محدب آئینے   تیار کر رہے ہیں۔ یہ تحفظِ ورثہ کی لہر کا ایک چھوٹا مگر بامعنی اثر ہے۔

انجینئرز  گراؤٹنگ   کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے عمارت کے ڈھانچے کو استحکام بخش رہے ہیں، جو خاموشی سے عمارت کو اندر سے مضبوط بناتا ہے، تاکہ اس کی خوبصورتی نہ صرف بحال ہو بلکہ قائم بھی رہے۔

دنیا کی بڑی دیواروں میں سے ایک سمجھی جانے والی  پکچر وال  (تصویری دیوار) آج تکمیل کے قریب ہے۔ ماہرین ایک ایک پینل کر کے نقش و نگار کو دوبارہ ابھار رہے ہیں، اینٹوں کے کام کو درست کر رہے ہیں اور بڑی مہارت اور باریک بینی سے نقش نگاری کر رہے ہیں۔

یہ کام سست ہے، لیکن بامقصد ہے۔ بحال ہونے والا ہر انچ ماضی اور حال کے درمیان ایک مکالمہ محسوس ہوتا ہے۔

بحالی کی یہ کوششیں صرف یادگاروں تک محدود نہیں یہ ہماری شناخت کے بارے میں ہیں۔ یہ تیزی سے بھاگتے ہوئے شہر کو رکنے، سوچنے اور اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے کی یاد دہانی کرواتی ہیں۔

 ایجنسی فرانسیس ڈی ڈویلپمنٹ  (اے ایف ڈی) جیسے عالمی شراکت داروں کے تعاون اور پاکستان بھر میں ایسے منصوبوں کو وسعت دینے کے بڑھتے ہوئے عزم کے ساتھ، لاہور کا یہ احیاء ایک وسیع تر ثقافتی بیداری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

لاہور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خاموش مگر گہرا ہے۔ یہ کوئی شور شرابہ یا ڈرامائی تبدیلی نہیں، لیکن یہ اپنی جگہ ایک وزن رکھتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ورثہ ماضی کا بوجھ نہیں، بلکہ مستقبل کا پل ہے۔

جیسے جیسے دیواریں اپنے رنگ اور آئینے اپنی چمک دوبارہ حاصل کر رہے ہیں، ایک بات واضح ہوتی جا رہی ہے لاہور صرف تاریخ کو محفوظ نہیں کر رہا، بلکہ یہ اس تاریخ کے ساتھ دوبارہ جینا سیکھ رہا ہے۔