تفصیلات کے مطابق وسیم کو 18 دسمبر کو ایک نامعلوم نمبر سے اسے  ہائے  کا پیغام موصول ہوا۔ نام پوچھنے پر لڑکی نے اپنا نام عائشہ بتایا۔ چند دن بعد 23 دسمبر کو وہ لڑکی اس کی دکان پر آئی، جب کہ ایک نوجوان ساتھ تھا جو قریب ہی ایک گاؤں میں ٹھہرا رہا۔

 وسیم کا کہنا ہے کہ لڑکی نے دکان پر آ کر اعتماد میں لینے کی کوشش کی، بغیر ادائیگی کے خریداری کی اور  پھر اسے ساتھ والے گاؤں چھوڑنے کی درخواست کی، جس پر وہ اسے چھوڑ آیا۔

وسیم کے مطابق اس ملاقات کے بعد وہ نمبر بند ہو گیا جس سے پہلی بار رابطہ ہوا تھا، تاہم دو سے تین دن بعد ایک نئے نمبر سے دوبارہ رابطہ کیا گیا اور ملاقات کے لیے بلایا گیا۔

متاثرہ شہری کا  کہنا ہے کہ راحت پارک میں ملاقات کے دوران لڑکی نے اس سے دو ہزار روپے مانگے اور ایک کمرے میں چلنے کی بات کی، جب کہ کچھ نامعلوم افراد مبینہ طور پر نگرانی کر رہے تھے۔ وسیم کے بقول اسی موقع پر زبردستی اس سے رقم لی گئی۔

متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی اسے مختلف بہانوں سے گھر آنے پر اصرار کیا جاتا رہا، تاہم وہ اس سے گریز کرتا رہا۔

 وسیم کے مطابق 31 دسمبر 2025 کو ایک بار پھر ملاقات ہوئی اور باہمی رضامندی سے تعلق قائم ہوا جس کے بعد مزید دو ہزار روپے لیے گئے۔

وسیم نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بعد اسے بلیک میل کیا جانے لگا اور کہا گیا کہ لڑکی کے کزن نے اسے دیکھ لیا ہے، اب میڈیکل کرایا جائے گا اور عائشہ نامی خاتون نے وکیل سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔

 عائشہ وائس میسجز کے زریعے ملاقات اور وقت کا پوچھتی رہی اور آنے سے پہلے ویڈیو کال کی ڈیمانڈ بھی کرتی رہی اور ملاقات پر آنے سے پہلے دو عدد سینڈل منگوانے کا بھی کہتی رہی۔

وسیم کے مطابق وقتاً فوقتاً اپنی تصویریں اور پیسوں کی ڈیمانڈ بھی کرتی رہی۔ 


 اسی دوران اسے ایک نجی ٹی وی چینل کے مقامی رپورٹر کی کال موصول ہوئی جس نے دعویٰ کیا کہ اس کے خلاف ایک خبر آئی ہے اور اس کا مؤقف چاہتا ہے۔

وسیم کے مطابق اس نے رپورٹر کو بتایا کہ یہ ایک ہنی ٹریپ گینگ کا معاملہ ہے اور اسے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔

 بعد ازاں ایک مقامی شخص کو اس معاملے میں شامل کیا گیا جس نے رپورٹر سے بات کی۔ وسیم کا دعویٰ ہے کہ اسی دوران رپورٹر، لڑکی اور ایک خاتون اس سے ملنے آئے لیکن میں وہاں ملنے نہیں گیا اور مقامی شہری کے زریعے تین لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا، جو بعد میں دو لاکھ تک آ گیا۔

متاثرہ شہری کے مطابق رپورٹر نے اسے ایک درخواست بھیجی جو مبینہ طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایم ایس کے نام تھی جس میں مدعیہ کا نام فرذانہ بی بی لکھا گیا یے، جو اس کیس کو مزید تشویش ناک بنا دیتا ہے۔

 الزام لگایا گیا کہ یکم جنوری 2026 کو شام چھ بجے وسیم کی دکان پر لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

وسیم نے اس الزام کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی دکان 23 دسمبر کے بعد مالی مشکلات کے باعث بند ہے، جس کی گواہی پوری مارکیٹ اور مقامی پنچایت دے سکتی ہے

حتیٰ کہ دکان کی چابیاں بھی پنچایت کے پاس ہیں۔


دوسری جانب، پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان نے مقامی رپورٹر سے اس پورے کیس پر بات چیت کی، جہاں رپورٹر نے وسیم کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی طرف سے کسی قسم کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور اس پر بلاجواز الزام لگایا جا رہا ہے۔

 رپورٹر کا مؤقف ہے کہ اس نے خبر ثبوتوں کی بنیاد پر دی ہے، تاہم متاثرہ شہری اور دیگر مقامی ذرائع کے مطابق خبر میں تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ رپورٹ میں واقعہ دکان پر یکم جنوری شام چھ بجے پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا، جب کہ اس دن دکان بند تھی۔

پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان نے لڑکی کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن زرائع کی جانب سے یہ معلوم ہوا کہ لڑکی نے وسیم پر الزام عائد کیا کہ اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ 

متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ یہ پورا معاملہ ایک منظم گینگ کی کارروائی ہے، جو لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کر بعد ازاں بلیک میلنگ کے ذریعے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ 

شہری وسیم نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔