اجے بنگا، جو ورلڈ بینک کے صدر ہیں انہوں نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کو روزگار فراہم نہ کیا گیا تو ملک میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق روزگار کی فراہمی کو ہی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
یہ ہدف بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم ماضی کا ریکارڈ کچھ امید ضرور دلاتا ہے۔ لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں پاکستان میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جو تقریباً 28 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
دوسری جانب ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ روزگار کے محدود مواقع کے باعث گزشتہ ایک سال میں سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں ملکی برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، وہیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال تقریباً 40 ارب ڈالر زرِ مبادلہ بھیج کر معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔
حکومتی کوششوں کے باوجود غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کا بڑا انحصار اب بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر ہے۔
اجے بنگا نے روزگار میں 32 سے 38 فیصد اضافے کی ضرورت پر زور دیا، جو ماضی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ناممکن نہیں۔ مثال کے طور پر سن 2000 سے 2010 کے دوران، جب معیشت نسبتاً مستحکم تھی، نوکریوں میں 43 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس ہدف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی پالیسیاں ہیں۔ اگر حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرے اور کاروبار کے لیے سرکاری پیچیدگیوں اور رکاوٹوں کو ختم کرے تو یہ خلا آسانی سے پُر کیا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گا یا نہیں۔







