خبر رساں اشاعتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سخت اور کٹھن حالات میں رہنے والی خواتین، خاص طور پر 19ویں صدی میں ہر بچے کی پیدائش کے ساتھ اپنی متوقع عمر میں کمی دیکھتی تھیں۔ یہ نتیجہ فن لینڈ کے 1866 سے 1868 کے بدترین قحط کے دوران 4,684 خواتین کے ریکارڈز سے حاصل کیا گیا۔

نیدرلینڈز کی یونیورسٹی آف گروننگن کے محققین نے کا کہنا ہے کہ قحط کے دوران ہر بچے کی پیدائش پر عورت کی عمر چھ ماہ کم ہو جاتی تھی۔ وجہ نہایت سادہ مگر گہری تھی۔ خواتین نے اپنی زیادہ تر توانائی حمل اور بچوں کی پرورش میں لگا دی جس سے جسم کمزور اور قوت مدافعت متاثر ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثر خاص طور پر ان خواتین میں دیکھا گیا جو قحط کے دوران بچے پیدا کر رہی تھیں یعنی حالات نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر یوان ینگ کے مطابق حمل اور دودھ پلانے کا دور بہت زیادہ توانائی مانگتا ہے اور اگر ماحول کڑا ہو تو عورت کا جسم آسانی سے تھک جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج بنیادی طور پر تاریخی پس منظر رکھتے ہیں کیونکہ آج صحت کی سہولتیں کہیں بہتر ہیں۔ آج کی دنیا میں زیادہ تر خواتین دو سے تین بچے پیدا کرتی ہیں جبکہ پچھلی صدیوں میں یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔

واضع ہے کہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کچھ ممالک جیسے نائجر، چاڈ، اور جنوبی سوڈان میں صورتحال اب بھی ملتی جلتی ہے جہاں پیدائش کی شرح بلند اور حالات ابھی بھی سخت ہیں۔