اسی طرح اس میں وٹامن سی اور کے، فولیٹ، میگنیشیئم اور فائبر جیسے اہم اجزا بھی موجود ہوتے ہیں، جو جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں۔

انار کے استعمال سے آئرن جذب ہونے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ اس میں موجود وٹامن سی ہیموگلوبن کی تشکیل کے عمل کو بہتر بناتا ہے، جس سے خون کی کمی سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

تاہم ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انار کا استعمال دل اور اس کی شریانوں کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ہے اور یہ امراضِ قلب کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس نامی سائنسی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق انار میں موجود ایک خاص مرکب پونیکالاگن دل اور خون کی شریانوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ انار کھانے کے بعد جسم اس مرکب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرتا ہے، جس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

پونیکالاگن ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو انار کے رس میں پایا جاتا ہے اور یہ دل کی شریانوں میں جمع ہونے والے نقصان دہ کولیسٹرول اور چکنائی کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔

کولیسٹرول اور چکنائی کے جمع ہونے سے شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق انار میں موجود مرکبات نہ صرف شریانوں کی صفائی کرتے ہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی بناتے ہیں، سوزش کم کرتے ہیں اور دل کے دورے یا فالج جیسے امراض سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

زیادہ تر دل کے دورے شریانوں میں چکنائی کے جمع ہونے کے باعث پیش آتے ہیں، تاہم تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ انار کے مرکبات اس چکنائی کو مستحکم بنا دیتے ہیں، جس سے اس کے پھٹنے اور خطرناک صورتحال پیدا ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

مزید برآں، تحقیق میں بتایا گیا کہ انار کے استعمال سے جسم میں تکسیدی دباؤ بھی کم ہوتا ہے، جو دل کی شریانوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

ماہرین کے مطابق انار میں موجود مرکبات معدے میں مفید چکنائی والے تیزاب کی سطح کو بھی بڑھاتے ہیں، جس سے مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انار نہ صرف ایک مفید پھل ہے بلکہ اس میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہیں جو دل کے امراض کا سبب بننے والے عوامل کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔