تقریب میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارتی نمائندوں اور علمی و تحقیقی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جس نے اس ایونٹ کو عالمی سطح کا علمی اجتماع بنا دیا۔
اس سال خدمتِ اسلام کے شعبے میں عبداللطيف بن أحمد الفوزان اور محمد محمد أبو موسى کو ایوارڈ دیا گیا۔ اسلامیات کے میدان میں عبدالحميد حسين محمود حمودة اور محمد وهيب حسين کامیاب قرار پائے، جب کہ عربی زبان و ادب میں بيير لارشيه کو یہ اعزاز ملا۔
طب کے شعبے میں سفيتلانا مويسوف جب کہ سائنس (ریاضی) میں كارلوس كينغ کو کنگ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔
خیال رہے کہ کنگ فیصل ایوارڈ کا آغاز 1977 میں ہوا جبکہ پہلی بار یہ ایوارڈ 1979 میں دیا گیا۔ ابتدا میں یہ تین شعبوں تک محدود تھا، تاہم بعد ازاں طب اور سائنس کو بھی شامل کر لیا گیا، جس کے بعد یہ عالمی سطح پر ایک معتبر علمی اعزاز بن گیا۔
یہ ایوارڈ دنیا بھر میں سائنسی، ادبی اور اسلامی خدمات کے اعتراف کے طور پر انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر سال اس کے ذریعے علم و تحقیق کے فروغ کے عزم کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: شاہی قلعہ سے شاہی حمام تک، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے شہر کی رونقیں بحال کرنی شروع کردیں
پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، جن میں ابو الاعلیٰ مودودی اور خورشید احمد شامل ہیں، کو بھی ماضی میں اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے، جو ان کی عالمی سطح پر علمی خدمات کا اعتراف ہے۔
ایوارڈ جیتنے والوں کو دو لاکھ امریکی ڈالر، 200 گرام 24 قیراط سونے کا تمغہ اور اعزازی سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے، جو اس کی عالمی حیثیت کو مزید نمایاں بناتا ہے۔







