نیویارک سٹی کے علاقے ٹریبیکا میں قائم ایک گیلری کو  ڈونلڈ جے ٹرمپ اینڈ جیفری ایپسٹین میموریل ریڈنگ روم   میں تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ نمائش غیر منافع بخش تنظیم انسٹی ٹیوٹ فار پرائمری فیکٹس نے منعقد کی ہے، جو شفافیت اور انسدادِ بدعنوانی پر کام کرتی ہے۔

نمائش میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ 35 لاکھ سے زائد صفحات کو 3,437 جلدوں کی صورت میں دیواروں پر ترتیب دیا گیا ہے، جب کہ متاثرین کی یاد میں خصوصی جگہ، ٹائم لائنز اور ہاتھ سے لکھی گئی یادداشتیں بھی شامل ہیں۔

جیفری ایپسٹین کو 2019 میں جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت نے متعدد متاثرین کو عدالتی انصاف سے محروم کر دیا تھا۔

نمائش کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس  ریڈنگ روم  کا مقصد ان مقدمات اور متاثرین کو منظرِ عام پر لانا ہے، جنہیں کبھی عدالت تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکا۔

ایپسٹین کی متاثرہ خاتون لارا بلوم میک جی نے نمائش کے دورے کے بعد کہا کہ یہ جگہ ایک  کاغذی شہر  کی طرح محسوس ہوتی ہے، جہاں ہر جلد ایک زندگی، ایک نام اور ایک ایسے دن کی نمائندگی کرتی ہے جو کبھی پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ برسوں ہمیں خاموش رہنے، سمجھوتے قبول کرنے اور آگے بڑھ جانے کا کہا گیا۔ اب پہلی بار ہماری کہانیاں عوامی ریکارڈ کا حصہ بنی ہیں۔

نمائش کے شریک بانی ڈیوڈ گیریٹ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد شفافیت اور احتساب ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نمائش دراصل ایک  پاپ اپ میوزیم  ہے، جس کا مقصد عوامی دباؤ پیدا کرنا ہے تاکہ امریکی کانگریس اور محکمہ انصاف مکمل شفافیت اور احتساب کی جانب قدم بڑھائیں۔

منتظمین کے مطابق دستاویزات کو پرنٹ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ کئی متاثرین کے نام مناسب طریقے سے خفیہ نہیں کیے گئے تھے، جس پر انہوں نے امریکی محکمہ انصاف پر شدید تنقید کی۔

مزید پڑھیں: 5 ہزار ڈالرز سے شروع ہونے والا خواب، چینی خاتون نے صحرا کو سرسبز جنگل میں بدل دیا

نمائش کے دوران متاثرین اور سماجی کارکنوں نے 24 گھنٹے پر مشتمل لائیو ریڈنگ سیشن بھی منعقد کیا، جس میں فائلوں کے اقتباسات عوام کے سامنے پڑھے گئے تاکہ یہ ریکارڈ دوبارہ خاموشی سے دفن نہ ہو سکے۔

گیلری میں آنے والے افراد پھول، ہاتھ سے لکھی یادداشتیں اور غم و غصے پر مبنی پیغامات چھوڑ رہے ہیں، جب کہ متعدد متاثرین کا کہنا ہے کہ پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ ان کی آواز واقعی سنی گئی ہے۔

منتظمین اور متاثرین کا کہنا ہے کہ صرف دستاویزات سامنے آنا کافی نہیں، بلکہ حقیقی انصاف، تحقیقات اور اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کو روکا جا سکے۔